عراق میں بم دھماکے، چھبیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST

عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کی نئی لہر اٹھی ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شیعہ اکثریتی علاقوں میں متعدد بم دھماکوں میں چھبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ان دھماکوں میں پچاسی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پہلا دھماکہ جمعہ کی صبح دارالحکومت بغداد میں کاظمیہ کے علاقے میں واقع بازار میں ہوا جس کے چند منٹ بعد وہاں کھڑی ایک کار میں نصب بم بھی پھٹ گیا۔

اس کے علاوہ دو کار بم دھماکے بغداد کے ہی جنوب میں واقع قصبے شومالی میں ہوئے جبکہ کربلا کے مشرق میں حلہ کے علاقے میں ایک بم بس سٹاپ پر اور دوسرا مرکزی بازار میں پھٹا۔

تاحال کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دو ہزار تیرہ کے آغاز پر عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کی نئی لہر اٹھی ہے اور کئی مہلک دھماکے ہوئے ہیں۔

عراقی حکام ملک میں حالیہ پرتشدد واقعات کے لیے ایسے سنّی العقیدہ شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں جن کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات ملک کو دوبارہ خانہ جنگی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔