تیونس: اپوزیشن رہنما کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

تیونس میں حزب اختلاف کے رہنما شکری بلعید کے تابوت کو جلوس کی شکل میں تدفین کے لیے لیجایا جا رہا ہے

تیونس کے دارالحکومت تیونس شہر میں ہزاروں افراد حزب اختلاف کے اہم رہنما شکری بلعید کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

اڑتالیس سالہ شکری بلعید کو گزشتہ بدھ ایک قاتل نے انتہائی قریب سے گولی مار کر قتل کر دیا تھا جس کے بعد قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ملک کے تمام شہروں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے اور ایک عام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

مختلف تنظیموں نے اس قتل کا الزام ملک کی حکمران جماعت النہضہ پر عائد کیا ہے جس سے النہضہ انکار کرتی ہے۔

وزیر اعظم حمادی الجبالی نےاس متنازع صورت حال کو ختم کرنے کی کوشش میں کوئی بھی سیاسی وابستگی نہ رکھنے والے اہل شہریوں کی مدد سے حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا جسے انہی کی جماعت نے مسترد کر دیا ہے۔

تقریباً تین ہزار افراد ابتدائی طور پر جبل جلود علاقے میں جمع ہوئے جہاں بلعید کا تابوت رکھا گیا تھا اور انہوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور النہضہ کی حکومت پر بلعید کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے۔

ملک کے تمام شہروں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے اور ایک عام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے

تعزیت کے لیے جمع ہجوم نے نعرے لگائے کہ ’وہ خون اور روح سے شہیدوں کے لیے قربانی دیں گے‘۔

ہزاروں مزید افراد نے اس تابوت کو لےجانے والے جلوس میں شرکت کی جب یہ تدفین کے لیے نزدیکی قبرستان الجلاز لےجایا جا رہا تھا۔

نمازِ جمعہ کے بعد مزید ہزاروں افراد نے اس جلوس میں شرکت کی اور پولیس کے سینکڑوں اہلکار مختلف علاقوں میں پر ممکنہ تشدد کے واقعات سے نپٹنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔

تیونس شہر میں بہت ساری دکانیں اور کاروبار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی معطل رہا۔

یہ ملک میں گزشتہ پینتیس سالوں میں پہلی عام ہڑتال ہے۔

ممکنہ تشدد کے واقعات کے پیشِ نظر تیونس کے کارتھیج ہوائی اڈے سے متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں تھیں۔

تیونس کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یونیورسٹیاں بند کر دی گئی ہیں جبکہ فرانس نے بھی تیونس شہر میں اپنے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔

سدی بو یزید قصبے میں جہاں کے رہائشی محمد بو عزیزی کی خود سوزی نے عرب ممالک میں احتجاجی تحریک کو جنم دیا بھی دس ہزار افراد بلعید کے قتل کا سوگ منانے کے لیے جمع ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔