فرانس نے مالی میں باغیوں کو تاوان دیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 03:28 GMT 08:28 PST

مالی کے شمالی حصے پر اسلامی شدت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا

ایک سابق امریکی سفیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فرانس نے مالی میں یرغمالوں کو رہا کروانے کے لیے ان اسلامی شدت پسندوں کو تاوان کی رقم ادا کی جن کے ساتھ وہ آج کل لڑ رہا ہے۔

وکی ہڈلسٹن نے کہا کہ فرانس نے 2010 میں نائجر میں یورینیئم کی ایک کان سے پکڑے گئے یرغمالوں کو رہا کروانے کے لیے ایک کروڑ 17 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دوسرے یورپی ممالک نے بھی تاوان کی رقوم ادا کی ہیں، جن کی مالیت نو کروڑ ڈالر تک پہنچتی ہے۔

فرانس نے ہمیشہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔

فرانس کی قیادت میں لڑنے والی افواج کی طرف سے شمالی مالی میں اسلامی عسکریت پسندوں سے علاقے آزاد کروانے کے دو ہفتے بعد اب وہاں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جمعے کے روز ایک خودکش حملہ آور نے شمالی شہر گاؤ میں فوجیوں کے ایک گروپ کے نزدیک جا کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا، جس سے ایک فوجی زخمی ہو گیا۔ یہ حملہ القاعدہ کی ایک شاخ نے کیا تھا۔

اسی دوران دارالحکومت باماکو میں فوجیوں کے درمیان ایک جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ یہ جھڑپ عام فوجیوں اور ’سرخ ٹوپی‘ نامی چھاتہ بردار سپاہیوں کے درمیان ہوئی۔

"القاعدہ کی شاخیں مغربی یرغمالوں کو اپنی نیک دلی کی وجہ سے رہا نہیں کرتیں۔"

سابق امریکی سفیر

ہڈلسٹن نے کہا کہ 2010 میں نائجر کی کان میں یرغمالوں کی رہائی صرف تاوان کی ادائیگی کی وجہ سےممکن ہو سکی۔

انھوں نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں بتایا، ’ان تمام یورپی ممالک جنھوں نے تاوان کی رقوم ادا کیں انھوں نے اس کی تردید کی ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ یہ رقوم بالواسطہ طور پر مالی حکومت کے ذریعے دی گئی تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’جب میں مالی میں تھی، تو گاؤ کے گورنر، جو اب فوت ہو گئے ہیں، القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں میں شامل تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کی شاخیں ’مغربی یرغمالوں کو اپنی نیک دلی کی وجہ سے رہا نہیں کرتیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔