ایرانی مہاجرین کے کیمپ پر حملہ، 5 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 13:26 GMT 18:26 PST

عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کی نئی لہر اٹھی ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے قریب واقع ایرانی تارکین وطن کے کیمپ پر ایک راکٹ داغا گيا ہے اور اس حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حریہ کے کیمپ میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں یو این مشن کی ترجمان ایلینا نابا نے خبر رساں ادارہ اے ایف پی کو بتایا کہ حملے میں ’متعدد رہائشی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ عراقی پولیس کے بعض اہلکاروں کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔‘

بغداد میں ایک پولیس اہل کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بغداد کے اس مغربی علاقے سے داغے جانے کا امکان ہے جہاں بدر بریگیڈ سرگرم ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار ناہید ابو زید کا کہنا ہے کہ بدر بریگیڈ شیعہ تنظیم ’بدر آرگنائزیشن‘ کی مسلح تنظیم ہے جو ایرانی حکومت سے بہت قریب ہے۔

بغداد کے پاس جس جگہ یہ کیمپ ہے وہاں امریکی فوج کا اڈہ بھی تھا اور یہاں اب ایرانی گروپ ’پیپلز آ‌ف مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران‘ ( پی ایم او آئی) کے لوگ رہتے ہیں۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس راکٹ حملے میں مرد و خواتین سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریباً پچاس دیگر زخمی ہیں جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

پی ایم او آئی کی ذیلی تنظیم ’دی نیشنل کونسل آف ریزسنٹنس آف ایران‘ ( این سی آر آئی) نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ حملہ صبح پونے چھ ہوا۔

بیان کے مطابق ’ایک خاتون سمیت چھ رہائشی ہلاک جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے اس لیے ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔‘

"ایک خاتون سمیت چھ رہائشی ہلاک جبکہ پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے اس لیے ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔"

پی ایم او آئی سے تعلق رکھنے والے تین ہزار افراد کو عراقی حکومت کی گزارش پر کیمپ حریہ میں منتقل کیا گيا تھا۔

عراقی حکومت ان افراد پر مشتمل کیمپ اشرف کو بند کرنا چاہتی تھی جو عارضی تھا۔

ایران میں سنہ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب میں پی ایم او آئی نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس گروپ کے اسلامی نظریات کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ نظریات اپنانے کے سبب امام خمینی کے اقتدار سے ان کی نہیں بن پائی۔

اس تنظیم کے کئی رہنماؤں کو پھانسی پر بھی لٹکا دیا گيا تھا اور سنہ اکیاسی میں تنظیم کے رہنماؤں کو پیرس میں پناہ لینے پڑی تھی۔

ا‎سّی کے عشرے میں کئی ایرانی رہنماں کے خفیہ طور پر قتل کے لیے اسی تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا گيا تھا۔

اس کے بعد سنہ اسّی میں اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین نے اس گروپ کا عراق میں خیر مقدم کیا اور کیمپ اشرف قائم ہوا۔ عراق ایران جنگ میں اس گروپ نے صدام حسین کا ساتھ دیا اور عراقی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا۔

دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس گروپ نے ہتھیار چھوڑنے پر اتفاق کیا لیکن عراق میں شیعوں کی قیادت والی حکومت انہیں ملک چھوڑنے کو کہہ رہی ہے۔

امریکی حکومت بھی اس گروپ کو دہشت گردوں کی لسٹ سے نکال چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔