اوباما کی خفیہ ڈرون جنگ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 06:50 GMT 11:50 PST

امریکہ سے باہر کی دنیا ڈرونز کے استعمال کی قانونی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگاتی ہے

جب صدر اوباما کے طرف سے سی آئی اے کے نئے نامزد ڈائریکٹر جان برینن نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے تین گھنٹے کی شہادت دی ہے، اس کے بعد سے دو باتیں واضح ہو گئی ہیں۔

پہلی یہ کہ جان برینن کی اس عہدے کے تصدیق ہو جائے گی۔ دوسری یہ کہ جنگ کے ایک درجن برسوں بعد بھی امریکہ کے اندر اور باہر جنگ کے انداز کے بارے میں شدید اختلافات موجود ہیں۔

جان برینن نے اوباما انتظامیہ کی طرف سے گذشتہ چار برسوں میں القاعدہ کے خلاف جنگ کا بھرپور دفاع پیش کیا، جس میں انھوں نے خاص طور پر مختلف ملکوں میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر توجہ مرکوز کی۔

انھوں نے یہ بات واضح کی کہ انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس القاعدہ اور اس سے وابستہ طاقتوں کے خلاف اس صورت میں ہلاکت خیز طاقت استعمال کرنے کا قانونی جواز موجود ہے جب امریکہ کو فوری خطرہ لاحق ہو اور گرفتاری خارج از امکان ہو۔

کمیٹی القاعدہ کے خلاف جنگ میں ڈرون حملوں کی واضح طور پر حامی تھی۔ بہت سے امریکی بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔

لیکن امریکہ سے باہر صورتِ حال مختلف ہے۔ بقیہ دنیا ڈرونز کے استعمال کی قانونی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں، جہاں صدر اوباما کے پہلے دور میں ڈرون حملوں میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اگرچہ جان برینن نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ ڈرون کیسے استعمال کیے جاتے ہیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمٰن نے اس موضوع پر کھل کر بات کی ہے۔

جان برینن کی پیشی سے دو روز قبل واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ واضح کیا کہ نہ صرف پاکستانی حکومت امریکہ کی طرف سے ڈرون کے استعمال کو پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتی ہے، بلکہ ڈرون دفاعی نقطۂ نظر سے بھی غیرفائدہ مند ہیں۔

انھوں نے کہا، ’ہمیں اس علاقے کو (دہشت گردوں سے) پاک کرنا ہے، جب کہ ڈرون اس کی بجائے لوگوں کو مزید انتہاپسندی پر آمادہ کر رہے ہیں۔‘

پاکستانی سفیر کے مطابق ’اس سے عسکریت پسندی کے خاتمے کی بجائے زیادہ ممکنہ دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس سے کسی بڑے یا اوسط ہدف کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ مستقبل کے دہشت گردوں کی ایک نسل بھی تیار ہو رہی ہے۔‘

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پاکستانی سفیر کے نقطۂ نظر کی حمایت ہوتی ہے۔

"ہمیں اس علاقے کو (دہشت گردوں سے) پاک کرنا ہے، جب کہ ڈرون اس کی بجائے لوگوں کو مزید انتہاپسندی پر آمادہ کر رہے ہیں۔"

پاکستانی سفیر شیری رحمٰن

گذشتہ برس پیو کے ایک سروے کے مطابق 74 فیصد پاکستانی امریکہ کو ’دشمن‘ سمجھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں۔

جان برینن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے ممکنہ ردِ عمل کا بھی جائزہ لیتی ہے۔

لیکن طویل مدت سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر پاکستان کی تشویش کا ازالہ کرنے کی بجائے اوباما انتظامیہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔

انتظامیہ میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹوں کے باوجود یہ تسلیم نہیں کرتی کہ وہ پاکستان میں ڈرون حملے کر رہی ہے۔

یہ حکمتِ عملی کس حد تک اور کتنے عرصے تک پائیدار ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق چاہے ماضی میں ڈرون حملوں پر کوئی تعاون رہا ہو، اب اس سلسلے میں کوئی تعاون نہیں پایا جاتا۔

شیری رحمٰن نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان ڈرون حملوں کی اعلانیہ مخالفت لیکن درونِ خانہ حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے اصرار کیا، ’کسی قسم کے خفیہ تعاون کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘

اس سے اوباما انتظامیہ کے لیے ایک مخمصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرون حملوں سے القاعدہ سے لاحق خطرے کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن جو کارروائی اہم اہداف کے خلاف دفاعی مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، اب وہ بڑے پیمانے پر پھیل گئی ہے۔

اب نہ صرف القاعدہ کے ان اہل کاروں کو ڈرون کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو امریکی سرزمین پر حملوں کی سازش تیار کرتے ہیں، بلکہ ان طالبان پر بھی حملے کیے جاتے ہیں جو افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

بظاہر امریکہ 2014 میں افغانستان سے رخصتی سے پہلے پہلے القاعدہ پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

لیکن کس قیمت پر؟

اوباما انتظامیہ کے ابتدائی دور میں پاکستان میں سول اداروں کو مضبوط بنانا پاکستان کے اندر انتہاپسندی کو پھیلنے سے روکن کا طویل مدت حل سمجھا جاتا تھا۔

لیکن اب اس کے بجائے ڈرون حملوں کے باعث اسی سول حکومت کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کی تشکیل کے لیے امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام پیدا ہوا ہے، لیکن اب بھی اعتماد کا فقدان باقی ہے۔

"جب بھی کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے تو آپ اسے پاکستان میں کم از 40 چینلوں پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے امریکہ کی طرف سے طاقت کے استعمال کا غلط تاثر قائم ہوتا ہے۔"

شیری رحمٰن

پاکستانی پارلیمان نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ڈرون حملے ’سرخ لکیر‘ ہیں، جسے امریکہ فی الحال نظرانداز کر رہا ہے، جس سے امریکہ پاکستان طویل مدت تعلقات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

شیری رحمٰن نے کہا، ’جب بھی کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے تو آپ اسے پاکستان میں کم از 40 چینلوں پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے امریکہ کی طرف سے طاقت کے استعمال کا غلط تاثر قائم ہوتا ہے۔‘

ڈرون امریکی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ سہی، لیکن جیسا کہ پاکستانی سفیر نے کہا ہے، ’یہ ہمارے اصول و ضوابط کا حصہ نہیں ہیں۔ ڈرون حملوں کا وقت گزر گیا ہے۔‘

لیکن جان برینن کی پیشی کے موقعے پر ایسی کوئی علامت نظر نہیں آئی کہ امریکہ ان کے مشورے پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔