’افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء کا امکان نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 08:52 GMT 13:52 PST

وائٹ ہاؤس نے جنرل ایلن کی بطور سپریم کمانڈر نیٹو نامزدگی کا فیصلہ کیا ہے

افغانستان میں نیٹو افواج کے سبکدوش ہونے والے کمانڈر جنرل جان ایلن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اتحادی افواج افغانستان میں طالبان کے خلاف فتح حاصل کرنے کی راہ پر ہیں اور وہاں سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء کے امکان نہیں ہے۔

ادھر امریکی میرین کور کے جنرل جوزف ڈنفورڈ نے افغانستان میں نیٹو افواج کی کمان سنبھال لی ہے۔ وہ ممکنہ طور پر افغانستان میں ایساف کے آخری کمانڈر ہیں۔

جنرل جان ایلن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج نے طالبان کی جانب سے جاری بغاوت پر قابو پانے کے لیے بہت آگے جا کر حالات پیدا کیے ہیں۔

افغانستان میں ان کے انیس ماہ کے دور میں افغان افواج اور پولیس کو افغانستان بھر میں سکیورٹی کے انتظامات کی سپردگی کا عمل بہت حد تک تیز ہوا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے افغانستان میں انخلاء کے بعد امریکہ کتنی فوج افغانستان میں رکھے گا۔

جنرل ایلن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کے امریکی فوجیوں کی موجوگی نہ ہونے کا امکان بالکل کم ہے اور مکمل انخلا کا کوئی خیال نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس معاملے کے لیے کسی قسم کی ممکنات پر غور کے لیے کہا گیا ہے۔

جنرل ایلن کا نام امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک معروف سماجی شخصیت کو غیر موضوں ای میلیں بھجوانے کے معاملے میں بھی لیا گیا جس کی زد میں آکر سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے استعفیٰ دے دیا تھا

انہوں نے کہا کہ ’یہ وہ راستہ ہے جس پر ہم جانا چاہتے ہیں۔ صدر اوباما اس صورتحال کے بارے میں واضح تھے جب انہوں نے دو ہزار چودہ کے بعد امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں کہا کہ یہ تربیت، مشاورت اور امداد کے لیے ہو گی۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں، اور مجھ سے اس معاملے میں کچھ کہا بھی نہیں گیا ہے کہ مکمل انخلاء کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جنرل ایلن کو یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر کے عہدے کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ انہیں پینٹاگون کی جانب سے شروع کی گئی ان تحقیقات میں بےقصور قرار دیا گیا تھا جس معاملے میں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹرئیس کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

جنرل ایلن نے کہا کہ ’بغاوتیں کچلنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ کیلنڈر پر ایک نکتہ لگائیں اور کہیں کہ آج ہم جیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم بغاوت کچلنے کے لیے حالات سازگار بنانے کے لیے بہت آگے تک آئے ہیں۔ ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے جن کی عمومی طور پر تعریف کی جاتی ہے کہ وہ بغاوتیں کچلنے کے لیے سازگار ہیں یعنی بغاوت کے خلاف کامیابی کے لیے فضا کو سازگار اور حالات کو اقتدار اور حکومت کے لیے ممکن بنانا اور معاشی ترقی کے مواقع سامنے لانا، تو میں اس سب کی روشنی میں سمجھتا ہوں کہ ہم کامیابی کی راہ پر ہیں‘۔

جنرل جان ایلن کے انیس ماہ کے دور میں افغان افواج اور پولیس کو افغانستان بھر میں سکیورٹی کے انتظامات کی سپردگی کا عمل بہت حد تک تیز ہوا

انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کو صبر سے کام لینا ہو گا اور اِن افغان افواج کی مدد کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

جنرل ایلن کی یورپ میں نیٹو افواج کے سربراہ کے لیے نامزدگی کو کچھ عرصے کے لیے اس وقت روک دیا گیا تھا جب اس قسم کی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں کہ انہوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک معروف سماجی شخصیت کو غیر موضوں ای میلیں بھجوائیں تھیں۔ یہ وہی سکینڈل تھا جس کی زد میں آکر سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مگر جنرل ایلن کے خلاف تمام الزامات مسترد کر دیے گئے تھے اور اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے جنرل ایلن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔