امریکی مفرور پر دس لاکھ ڈالر کا انعام

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 10:46 GMT 15:46 PST
ڈورنر

ڈورنر پر تین افراد کے قتل کا الزام ہے

امریکہ میں لاس اینجلس پولیس کے حکام نے ایک مفرور سابق پولیس اہلکار کا پتا بتانے کے لیے دس لاکھ امریکی ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس 33 سالہ سابق پولیس اہلکار کرسٹوفر ڈورنر پر تین افراد کے قتل کا الزام ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا میں حملے کے بعد گزشتہ ہفتے سے سابق پولیس اہلکار ڈورنر مفرور ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر باؤز نے کہا ہے کہ اب لاس اینجلس پولیس کو اسے پکڑنے کے لیے عوام کی مدد درکار ہے۔

انعام کا اعلان کرتے ہوئے لاس اینجلس کے میئر اینٹونیو ویلارائگوسا نے کہا کہ اس دہشت کے دور‘ کا خاتمہ ضروری ہے۔

اپنے آن لائن منشور میں ڈورنر نے پولیس افسروں سے بدلہ لینے کی بات کہی تھی جنہیں وہ اپنی 2008 میں ہونے والی برطرفی کا ذمہ دار مانتے ہیں۔

اتوار کو انعام کا اعلان کرتے ہوئے ویلارائگوسا نے کہا: ’ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہماری سکیورٹی کو اپنے ہاتھوں میں لے اور آس پڑوس کے امن کو برباد کرے۔‘

لاس اینجلس می‏ئر

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس دہشت کے دور کو برداشت نہیں کریں گے جس نے ہمارے اس ذہنی سکون کو چھین لیا ہے جس کے جنوبی کیلیفورنیا والے حقدار ہیں۔‘

لاس اینجلس پولیس محکمے کے سابق پولیس افسر ڈورنر پر تین لوگوں کے قتل کا الزام ہے۔ ان تین مقتولین میں ایک اس ریٹائرڈ کیپٹن کی بیٹی بھی شامل ہیں جنھوں نے 2008 کی تادیبی کارروائی میں مسٹر ڈورنر کی نمائندگی کی تھی۔

فی الحال پولیس 50 خاندانوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جن میں سے زیادہ تر لاس اینجلس پولیس محکمے سے تعلق رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈورنر نے اپنے کیريئر کی بربادی کا ان پر الزام لگایا ہے اور ان سے بدلہ لینے کا تہیہ کیا ہے۔

انٹرنیٹ پر موجود ان کے منشور سے پتا چلتا ہے کہ مسٹر ڈورنر کے خلاف کچھ چیزیں نسلی امتیاز کے سبب ہوئی ہیں۔

پولیس بگ بيئر لیک کے آس پاس کے علاقوں میں تلاشی کارروائی کر رہی ہے جو کہ لاس اینجلس سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں ڈورنر کی جلی ہوئی گاڑی ملی تھی۔

ڈورنر پر مندرجہ ذیل الزامات ہیں:

  • اتورا کی شب کیلیفورنیا میں ایک کار میں لاس اینجلس پولیس محکمے کے سابق کپتان کی اٹھائیس سالہ بیٹی مونیکا کوآن اور ان کے ستائیس سالہ منگیتر کیتھ لارنس کا قتل۔
  • شمالی لاس اینجلس کے علاقے کورونا میں جمعرات کی صبح دو پولیس افسروں پر فائرنگ
  • اس کے چند گھنٹے بعد ریورسائڈ شہر میں گشت پر تعینات ایک پولیس کار پر شب خون جس میں ایک کی سپاہی کی موت ہوگئی اور دوسرا زخمی ہے۔

سابق امریکی بحریہ کے ریزرو ڈورنر کی نوکری غلط بیانی کی وجہ سے چلی گئی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق انھیں 2008 میں نوکری سے اس وقت نکال دیا گیاتھا جب انھوں نے اپنے ٹریننگ افسر کے خلاف شکایات کی تھی کہ اس نے ایک نسیان کے مریض ملزم کو حراست کے دوران لاتوں سے مارا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔