کیا برطانیہ افغانی ترجمانوں کو بے سہارا چھوڑ رہا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 14:15 GMT 19:15 PST
جان ایلن

افغانستان میں نیٹو افواج کے سابق سربراہ جنرل جان ایلن نے اپنے عہدے سے برطرف ہوتے وقت کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے معاونین کی ’دیکھ بھال کرنا ان کی ذمہ داری ہے‘ لیکن افغانی معاونین جنہوں نے جنگ اور خطرناک حالات میں برطانوی فوج کی مدد کی تھی انہیں لگتا ہے کہ برطانیہ نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جوناتھن بیل نے ایسے ہی ایک افغانی مترجم سے بات کی۔ ایسے ہی ایک ترجمان نوجوان عبدل ہیں جو اس وقت چھپے ہوئے ہیں۔ ’ہم نے ان سے کابل کے قریب ایک مقام پر ملاقات کی۔‘

نیٹو کے ساتھ کام کرنے کے ثبوت کے طور پر وہ اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ ایک فائل میں دستاویزات بھی لائے جن میں ان کو جاری کی گئی موت کی دھمکیاں شامل تھی۔ اپنی اور اپنے خاندان کی سیکورٹی کے پیش نظر عبدل نے اپنی نوکری چھوڑ دی ہے۔

انہوں نے مجھے طالبان کا وہ خط دکھایا جس میں طالبان نے انہیں جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے کرنے کے لیے انہیں سزا دی جائے گی۔ ہماری ملاقات سے ایک رات قبل بھی انہیں ایسا ہی ایک دھمکی بھرا فون بھی آیا تھا۔

عبدل نے مجھے بتایا کہ افغانستان سے جب برطانوی فوج واپس چلی جائے گی تو ان جیسے کئی ترجمانوں کو نشانہ بنایا جائےگا۔ عبدل کا کہنا تھا ’وہ ہمارا سر کاٹ دیں گے۔‘

انہوں نے یہ پیغامات افغانستان میں برطانوی حکام کو پیش کیے ہیں لیکن ان کی برطانیہ میں پناہ کی درخواست کو مسترد کردیا گیا ہے۔ عبدل کا کہنا ہے کہ پناہ دینے کے لیے ’انہیں کس طرح کے شواہد چاہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مرنے کے بعد بہت دیر ہوچکے گی۔

"عبدل کی طرح ناز کو بھی یہی فکر ہے کہ نیٹو افواج کی واپسی کے بعد ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ ان کو بھی اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ' وہ مجھے مارنے کے لیے نشانہ بنائیں گے'۔ میں ان سے پوچھا کون ہیں وہ لوگ جو انہیں نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا ' طالبان'۔"

عبدل اکیلے ترجمان نہیں ہیں جنہیں اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ ہلمند میں ایک بڑے فوجی اڈے کے دورے کے دوران ہمارے پاس ایک درجن سے زائد ترجمان آئے جنہوں نے برطانوی فوج کے لیے کام کیا ہے اور ان سب کو فکر ہے کہ نیٹو افواج کے جانے کے بعد ان کا مستقبل کیا ہوگا۔

ان سب کی عمریں بیس اور تیس برس کے درمیان ہوگی۔ ان میں سے بعض نے برطانوی فوج کی وردی پہنی ہوئی تھی کیونکہ یہ پیٹرولنگ پر جانے کے لیے تیار تھے۔

ہمیں سیکورٹی کے خدشات کے تحت ان کے چہرے دکھانے اور نام بتانے کی اجازت نہیں تھی۔

ناز گزشتہ تین برس سے برطانوی فوج کے ساتھ ایک ترجمان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ چھٹی پر اپنے گھر جاتے ہیں تو چھپ کر جاتے ہیں تاکہ ان کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو یہ نہ پتہ چل جائے کہ وہ کام کیا کرتے ہیں۔

عبدل کی طرح ناز کو بھی یہی فکر ہے کہ نیٹو افواج کی واپسی کے بعد ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ ان کو بھی اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ میں ان سے پوچھا کون ہیں وہ لوگ جو انہیں نشانہ بنائیں گے۔ ان کا جواب تھا ’طالبان‘۔

محمد کا تعلق ہلمند صوبے سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’برطانوی فوج کی واپسی مجھے بڑی پریشانی میں ڈال دے گی‘۔ ایسے ہی ایک شخص زاہ نے مجھے بتایا کہ انہیں روزانہ مقامی لوگوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔’ کافروں کے لیے کام کرتے ہو اس لیے کافر ہو۔‘

ان میں سے کسی کو یہ یقین نہیں ہے کہ افغان فوج یا پولیس ان کو سیکورٹی فراہم کر پائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتے ہیں تو ہمارا کیا تحفظ کریں گے۔‘

افغانستان میں برطانوی فوج اور برطانوی وزرات خارجہ کے لیے تقریباً چھ سو ترجمان کام کرتے ہیں۔ بیس سے زائد ترجمان ہلاک ہوچکے ہیں جب ایک درجن سے زیادہ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ جن ترجمانوں سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ باغیوں کی جانب سے کیےگئے حملوں میں پانچ ترجمان اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

ان ترجمانوں کو نوکری پر رکھنے سے پہلے ان کو لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ ان افراد کو ہر ماہ ڈیڑھ ہزار ڈالر تنخواہ دی جاتی ہے جو کہ افغانستان میں ملنے والی تنخواہوں کے اعتبار سے بہت بہتر تنخواہ ہے۔ لیکن ان ترجمان کو اپنے مستـقبل کی فکر ستا رہی ہے۔

بیشتر نیٹو ممالک نے اپنے اپنے معاونین کو دیگر ممالک میں پناہ کی درخواست دینے کے لیے خصوصی پروگرامز کا انعقاد کیا ہے لیکن برطانیہ نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے افغان معاونین کی زندگی کو لاحق خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پناہ کی درخواست انفرادی معاملات کی بنیاد پر قبول کی جائےگی۔

ہلمند میں ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں اس طرح کی امداد کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ جیسے برطانوی فوج کے لیے کام کرنے والی عراقی معاونین کو دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو ’ہمارے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ یہ صحیح بات نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔