نیوزی لینڈ: خاتون کی ہلاکت کی ’بڑی وجہ کوکا کولا تھی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 14:27 GMT 19:27 PST

نتاشا روزانہ دس لیٹر کوک پیتی تھیں

نیوزی لینڈ کے ایک سرکاری تفتیش کار نے کہا ہے کہ ایک 30 سالہ خاتون کی ہلاکت کی ’بڑی وجہ‘ کوکا کولا بڑی مقدار میں پینا تھا۔

نتاشا ہیرس تین برس قبل حرکتِ قلب بند ہونے سے ہلاک ہوئی تھیں۔ وہ ہر روز دس لیٹر کوکا کولا پیتی تھیں۔

اتنی کوکا کولا میں روزانہ کیفین کی محفوظ مقدار سے دگنا زیادہ مقدار اور چینی کی گیارہ گنا زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے۔

کوکا کولا کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ نتاشا کی موت کوکا کولا کی وجہ سے ہوئی ہے۔

نتاشا آٹھ بچوں کی ماں تھیں اور ان کی صحت کئی برسوں سے خراب چلی آ رہی تھی۔

ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انھیں کوکا کولا کا نشہ ہو گیا تھا، اور اگر وہ یہ مشروب پینا چھوڑ دیتیں تو ان پر ’کپکپی‘ طاری ہو جاتی۔

وہ جتنی دیر تک جاگتیں، مسلسل کوکا کولا پیتی رہتیں۔ ان کے دانت بھی خراب ہو گئے تھے جنھیں نکالنا پڑا تھا۔

تفتیش کار ڈیوڈ کریریر نے کہا کہ اتنا زیادہ کوکا کولا پینے کی وجہ سے انھیں دل کی بیماری ’کارڈیئک اے رِدمیا‘ ہو گئی تھی، جس میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔

کریریر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’جب تمام شواہد اکٹھے کیے گئے تو مجھے معلوم ہوا کہ اگر نتاشا ہیرس اتنی بڑی مقدار میں کوک نہ پیتیں تو اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ اس طرح مرتیں جس طرح مری ہیں۔‘

ٹیلی ویژن نیوزی لینڈ کے مطابق تفتیش کار نے حساب لگایا کہ دس لیٹر کوکا کولا میں ایک کلو سے زیادہ چینی اور 970 ملی گرام کیفین ہوتی ہے۔

کریریر نے کہا ہے کہ کوکا کولا کو ان صارفین کی صحت کا ذمے دار نہیں قرار دیا جا سکتا جو ان کی مصنوعات کی حد سے زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں۔

تاہم انھوں نے سوڈا بنانے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مشروبات پر زیادہ مقدار میں چینی اور کیفین استعمال کرنے کے خطرات کے بارے میں واضح طور پر خبردار کریں۔

رپورٹ میں مزید لکھا ہے، ’یہ حقیقت کہ ان کے دانت کئی برس پہلے نکالے جا چکے تھے، جس کے بارے میں ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ کوک تھی، اور یہ حقیقت کہ ان کے ایک یا ایک سے زائد ایسے بچے پیدا ہوئے تھے جن کے دانتوں پر اینیمل نہیں تھا، تو اس بات سے انھیں اور ان کے خاندان کو خبردار ہو جانا چاہیے تھا۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔