امریکی فوجی کے لیے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 09:21 GMT 14:21 PST

صدر اوباما سارجنٹ رومیشا کو میڈل آف آنر پہناتے ہوئے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ایک سابق فوجی کو افغانستان میں ایک جھڑپ کے دوران ان کی بہادری کے لیے میڈل آف آنر پیش کیا ہے۔

31 سالہ سابق سٹاف سارجنٹ کلنٹن رومیشا نے چار سال قبل سینکڑوں طالبان کے ساتھ خلاف ایک لڑائی کی قیادت کی تھی۔

جب پاکستانی سرحد کے قریب واقع چوکی کیٹنگ نامی چوکی پر جب طالبان نے دھاوا بولا تو اس وقت وہاں تقریباً 50 امریکی فوجی موجود تھے۔

وہ افغانستان یا عراق جنگ میں حصہ لینے والے چوتھے ایسے حیات سپاہی ہیں جنھیں امریکی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز ملا ہے۔

رومیشا تین بچوں کے باپ ہیں اور امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں رہتے ہیں۔ وہ اس وقت تیل نکالنے والی ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ تین اکتوبر 2009 کو تقریباً 400 طالبان جنگجوؤں نے افغان صوبے نورستان کے کمدیش ضلعے میں واقع چوکی پر اس وقت حملہ کیا جب بہت سے امریکی فوجی چوکی سے باہر گئے ہوئے تھے۔

جنگجوؤں نے چوکی کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا اور آس پاس واقع بلند مقامات سے چوکی پر راکٹوں، مارٹروں اور بھاری مشین گنوں سے فائر کھول دیا۔ سارجنٹ رومیشا دفاعی کارروائی کی قیادت کے دوران خود کو کئی بار دشمن کے فائر کی زد میں لے کر آئے۔

انھوں نے مشین گن سے گولیاں برسانے والے کئی طالبان کو نشانہ بنایا اور اس دوران وہ خود بھی ایک آر پی جی کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے تین مزید طالبان کو ہلاک کیا جو چوکی کے احاطے میں داخل ہو رہے تھے۔

سارجنٹ رومیشا نے اس کے بعد اسلحے کی فراہمی کے مقام کو محفوظ بنایا اور اس کے بعد اپنی توجہ داخلے کے مقام پر مرکوز کر دی۔

اس کے بعد انھوں نے پتا چلایا کہ فائر ایک قریبی گاؤں ارمل اور ایک افغان پولیس کی ایک چوکی سے سے آ رہا ہے جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق انھوں نے دشمن کے مورچوں پر مارٹروں کی مدد سے جوابی حملہ کرنے اور فضائی امداد مہیا کرنے میں مدد دی۔

آخر میں سارجنٹ رومیشا نے زخمی فوجیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے اور ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی لاشیں حاصل کرنے میں مدد دی۔

اس حملے میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں سارجنٹ رومیشا بھی شامل تھے۔

سرکاری بیان کے مطابق سارجنٹ رومیشا نے خود دس طالبان کو ہلاک کیا اور 35 دوسرے طالبان کی ہلاکت میں کردار ادا کیا۔

سارجنٹ رومیشا کو جب گذشتہ ماہ پتا چلا کہ انھیں اس اعزاز سے نوازا جائے گا تو انھوں نے کہا، ’ہم اس قسم کے سخت حالات میں پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ سیدھی اور سادی بات یہ ہے کہ ہم ہر حال میں جیتنے والے تھے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔