آسٹریلیا: اسرائیلی جیل میں ’ہلاکت‘ کی از سرِ نو تفتیش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 13:23 GMT 18:23 PST
باب کار

اے بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسٹر زائگیر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرتے تھے

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ باب کار نے دوہزار دس میں اسرائیل کی جیل میں آسٹریلوی شہری کی مبینہ پھانسی کے معاملے میں اپنی وزارت کے کردار کی از سرِ نو تفتیش کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو آسٹریلیا کے اے بی سی نیوز چینل نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر پھانسی پانے والے شخص جنہیں ’قیدی X‘ کہا جاتا ہے، ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور ان کا نام بین زائیگر ہے۔

اے بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے شواہد موجود ہیں مسٹر زائیگر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساعد کے لیے کام کرتے تھے۔

اسرائیل کی جانب سے اے بی سی کی اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل نہیں آیا ہے۔

دو سال پہلے جب یہ خبر آئی تھی تب سے جیل میں مبینہ طور پر پھانسی پانے والے اس شخص کی شناخت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کیونکہ اس شخص کے وجود کو حکومت نے تسلیم نہیں کیا تھا۔

وزیرِ خارجہ باب کار نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کے نتائج پریشان کن ہیں۔

مسٹر کار نے بتایا کہ اسرائیل میں آسٹریلوی سفارتکار کو بین زائیگر کی حراست کی خبر ان کی موت کے بارے میں ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زائیگر کے خاندان والوں نے اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں کی، ایسے میں آسٹریلیائی حکومت کچھ زیادہ نہیں کرسکتی تھی۔

اب آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض اہلکاروں کو زائیگر کی حراست کے بارے میں اطلاع تھی۔

اے بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مسٹر زائیگر کا تعلق میلبرن سے ہے، اور وہ اسرائیل بن الون کے نام اختیار کر کے گئے تھے۔

پروگرام میں یہ بتایا گیا کہ بین زائیگر اپنی موت سے دس سال قبل اسرائیل منتقل ہوگئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 34 برس تھی اور انہوں نے ایک اسرائیلی خاتون سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔

مسٹر زائیگر 2010 میں کئی مہینوں جیل میں قید رہنے کے بعد ایک اسرائیلی جیل میں پھانسی پر لٹکے ہوئے پائے گئے تھے۔ ان کی آخری رسومات میلبرن میں ادا کی گئی تھیں۔

زائیگر کی موت کی اطلاع آنے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ یہ گمنام قیدی رملہ میں ایک سخت سیکورٹی والی جیل میں قید تھے۔

زائیگر کی حراست کی وجوہات کو واضح نہیں کیا گیا تھا اور ان کی شناخت کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ جیل کے محافظوں کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہیں۔

اسرائیل نے کبھی زائیگر کی موجودگی کو تسلیم نہیں کیا، لیکن 2010 میں میڈیا کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا کہ اس معاملے کی کوئی بھی تفصیلات شائع نہ کی جائیں۔

اسرائیل میں میڈیا کے لیے اس طرح کے حکم عام نہیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کے حکم تبھی جاری کیے جاتے ہیں جب معاملہ قومی سلامتی کا ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔