’صحافیوں کے قتل،گرفتاری کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 00:21 GMT 05:21 PST

تنظیم کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران پاکستان میں 19 صحافیوں کے قتل کے مقدمات اب تک حل نہیں ہوسکے

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی شہر نیو یارک میں قائم عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی نئی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال فرائض کی انجام دہی کے دوران دنیا میں ستر رپورٹرز ہلاک ہوئے جبکہ دو سو تیس سے زیادہ صحافیوں کو جیل بھیجا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں صحافیوں کے قتل اور گرفتاری کے واقعات میں پچھلے سال کے دوران اتنا اضافہ ہوا ہے کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

نیویارک میں قائم تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے دنیا میں صحافیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا تعین کرنے کے لیے رسک لسٹ یا خطرے کی فہرست بھی شائع کی ہے جس میں دنیا کے ان دس ملکوں یا خطوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سال 2012 کے دوران صحافت کی آزادی کے ضمن میں سب سے زیادہ گراوٹ کے رجحان پائے گئے ہیں۔

اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔

تنظیم کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران پاکستان میں 19 صحافیوں کے قتل کے مقدمات اب تک حل نہیں ہوسکے۔

تنظیم نے ایسے ملکوں کی فہرست میں جہاں صحافیوں کو سزا کے خوف کے بغیر قتل کیا جارہا ہے، پاکستان کو دسویں نمبر پر رکھا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا میں پاکستان، صومالیہ اور برازیل ایسے ممالک ہیں جہاں صحافیوں کے قتل کی شرح زیادہ ہے اور قاتل بھی سزا کے خوف سے آزاد مورچہ بند ہیں۔

اسکے علاوہ ایکواڈور، ترکی اور روس اپنے ملکوں میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے امتناعی قوانین کا استعمال کررہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق آزادی صحافت کی گراوٹ کا تیسرا رجحان ایتھوپیا، ترکی، ویت نام، ایران اور شام میں پایا گیا ہے جس کے تحت ان ملکوں میں تنقیدی رپورٹنگ کو روکنے کے لیے صحافیوں کی بڑی تعداد کو ریاست مخالف الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے۔

تنظیم نے ایسے ملکوں کی فہرست میں جہاں صحافیوں کو سزا کے خوف کے بغیر قتل کیا جارہا ہے، پاکستان کو دسویں نمبر پر رکھا ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں صحافیوں کے ہلاک ہونے کی شرح بڑی حد تک بڑھ گئی ہے جہاں صحافیوں کو تنازعے کے تمام فریقوں کی جانب سے کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔

تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کئی صحافی شام کے جنگ زدہ علاقوں میں کام کررہے تھے لیکن ایسے صحافیوں کی اکثریت ان مقامی رپورٹروں کی ہے جنہیں جرائم اور کرپشن پر خبریں دینے پر قتل کیا گیا۔

تنظیم کہتی ہے کہ ان صحافیوں کو سزا کے خوف کے بغیر مارا گیا یعنی مارنے والوں کو یہ ڈر نہیں تھا کہ انہیں پکڑا جاسکے گا یا سزا مل سکے گی جس کی وجہ سے صحافت کی آزادی سخت خطرے سے دوچار ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کہتی ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا تیسرا سب سے جان لیوا ملک ہے جہاں صرف 2012 کے دوران سات صحافی ہلاک ہوئے۔ ان میں پانچ صحافی کو ہدف بناکر قتل کیا گیا اور ان پانچوں میں سے بھی چار کو بلوچستان میں مارا گیا ہے جہاں تنظیم کے بقول صحافی علحیدگی پسند گروہوں اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان پھنس کے رہ گئے ہیں۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ تشدد اور سزا کا خوف نہ ہونے کے رجحان کی وجہ سے پچھلے برس 6 پاکستانی صحافیوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کی اور یہ تعداد 2011 میں جلاوطنی اختیار کرنے والے صحافیوں کے مقابلے میں دوگنی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔