شام: شدت پسندوں کا ایک اور شہر پر قبضہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 18:13 GMT 23:13 PST

شام میں حکومت مخالف تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم النصرہ نے ہساکا کے قریب واقع الشدادا شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بندوق سے لیس ایک باغی کو الشدادا کے ایک کمپاؤنڈ میں جیت کی خوشی مناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ويڈیو میں مسلح باغیوں کو جشن مناتے، نعرے لگاتے اور صدر بشارالاسد کے پوسٹروں کو پیروں سے روندتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

الشدادا ملک کے جنوب میں واقع شہر ہے جہاں سب سے زیادہ تیل نکلتا ہے۔

قطر میں واقع شام کے انسانی حقوق کی تنظیم نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ النصرہ کے باغیوں نے الشدادا پر قبضہ کرلیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے فری سیرئن آرمی کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ الشدادا پر النصرہ نے قبضہ کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں حکومت مخالف باغیوں نے چند روز قبل ملک کے شمال میں واقع شہر حلب میں قائم ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

جنگجوؤں نے سکیورٹی افواج کے ساتھ تین دن کی مسلح جنگ کے بعد الجراع نامی ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

باغیوں نے ملک کے شمال مشرقی حصے میں واقع ایک بڑے ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کو تباہ کرنے کے ایک دن بعد فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق شام میں دو برس قبل شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک میں اب تک ستر ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔