شہابیے کی بارش، قدرت کا کرشمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 18:01 GMT 23:01 PST
روس میں شہابیہ

روس میں جمعہ کو شہابیے کی بارش میں سینکڑوں افراد زخمی ہو گئی ہیں

جہاں وسطی روس میں اورل کے پہاڑوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کے باعث تقریباً ساڑھے نو سو افراد زخمی ہوئے ہیں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے وہیں سائنس داں اسے قدرت کا کرشمہ مانتے ہیں۔

مقامی وقت کے مطابق، جمعہ کو صبح ساڑھے نو بجے روس کے پہاڑی خطے اورل میں کاروبارِ زندگی شروع ہو رہا تھا کہ چلیابِنسک سمیت چھ شہر زور دار دھماکوں سے گونجنے لگے۔ دھماکوں نے گاڑیوں اور عمارتوں کے الارم متحرک کر دیے۔

چلیابِنسک کی رہائشی پولینا کہتی ہیں: 'بڑا غیر معمولی منظر تھا۔ ہم نے چونکا دینے والی روشنی دیکھی۔ پھر آسمان میں سفید اور پیلے رنگ کی شعاع بنی۔ بڑی چوڑی اور لمبی شعاع تھی جو کئی سیکنڈ تک رہی۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اتنا زوردار دھماکہ تھا کہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے۔ سڑک پار یا شہر میں جہاں کہیں دیکھو، کھڑکیوں کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔

روسی ماہرین کے مطابق، دس ٹن وزنی شہابِ ثاقب چون ہزار کلومیٹر کی رفتار سے آ رہا تھا جب، زمین کی سطح سے کوئی پچاس کلومیٹر کی بلندی پر، اِس کے ٹُکڑے ہونے لگے۔

شہابیہ

جہاں یہ شہابیے گرے ہیں وہاں گنجان آبادی نہیں ہے

آخری دھماکے کے بعد، چھ شہروں میں شہابیوں کی بارش ہونے لگی۔ بہت دیر تک فضاء میں جھٹکے محسوس کیےگئے۔ کھڑکیوں کے شیشوں نے چھ شہروں میں کم سے کم پانچ سو افراد کو زخمی کیا۔ سب سے زیادہ نقصان چلیابِنسک میں ہوا ہے۔

برطانیہ کی ایک ماہرِ فلکیات، مونیکا گریڈی اِسے انسانیت کے لیے ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: ’میرے اندر کا سائنسدان سوچتا ہے’ واہ یہ فطرت کے اُن کرشموں میں سے ہے، جن کی پیش گوئی، انسان نہیں کر سکتا۔ اور یہ کرشمے مفت میں ہاتھ آتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر اِن شہابیوں کے ٹکڑے مل جائیں تو ہمیں نہیں پتہ کہ ہم کیا سیکھ پائیں گے۔ اِن شہابیوں نے دسیوں لاکھ کلو میٹر کا سفر کیا ہے۔ اِن کی ایک عمر ہے۔ اِن کی عمر، ساڑھے چار ارب سال ہے۔ کرۂ ارض کا کوئی پتھر اتنا پرانا نہیں۔ یہ شاہبیے ہمارے لیے اجنبی ہیں۔ جس قصبے سے یہ شہابیہ ملے، وہ تو بڑا مشہور ہو جائے گا۔‘

روس میں شہابیوں کی بارش ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب زمین کے جنوبی کرے سے ایک سیارچہ گزرنے والا ہے۔ سیارچے کو ٹونٹی ٹویلو ڈی اے فورٹین کا نام دیاگیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روس میں تباہی پھیلانے والا شہابِ ثاقب، شمالی کرہ سے آیا، اِس لیے، اِن دونوں واقعات کا کوئی تعلق نہیں۔

نقصانات

شہابیوں کی بارش میں کھڑکیوں کے شیشے بڑے پیمانے پو ٹوٹے ہیں

شہابیوں کی بارش سے متاثر ہونے والے روسی خطے اُورال کی سرحدیں، قازقستان سے ملتی ہیں جہاں متاثرہ شہر گنجان آباد نہیں ہیں۔ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔