’امدادی کارروائیوں کے لیے بیس ہزار افراد پر مشتمل ٹیم روانہ‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 01:48 GMT 06:48 PST

ولادیمیر پیوتن نے اس واقعہ میں بارہ سو زخمی افراد کی مدد کے لیے اس آپریشن کا حکم دیا ہے

روس کے ایمرجنسی حادثات کے انچارج وزیر کا کہنا ہے کہ جمعہ کو یورل کے پہاڑوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کے بعد وہاں بچاؤ اور صفائی کی کارروائی کے لیے بیس ہزار افراد پر مشتمل ٹیم بھیج دی گئی ہے۔

ملک کے صدر ولادیمیر پیوتن نے اس واقعہ میں بارہ سو زخمی افراد کی مدد کے لیے اس آپریشن کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو وسطی روس میں یورل کے پہاڑوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کے باعث تقریباً سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

ولادیمیر پیوتن نے کہا کہ شہابِ ثاقب کا کوئی بڑا ٹکڑا آبادی والے علاقے میں نہیں گرا۔ اندازوں کے مطابق یہ ٹکڑے لوہے کے بنے تھے جو تیس کلو میٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے گر رہے تھے۔

روس کے سائنس اکیڈمی کے مطابق شہابِ ثاقب زمین سے تیس سے پچاس کلو میٹر اوپر ٹوٹ گیا جس سے کئی کلو ٹن توانائی خارج ہوئی جو ایک چھوٹے ایٹم بم کے برابر بتائی جاتی ہے۔

سیارچے سے تعلق نہیں

"سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روس میں تباہی پھیلانے والا شہابِ ثاقب، شمالی کرے سے آیا، اِس لیے، اِن دونوں واقعات کا کوئی تعلق نہیں۔"

ایمرجنسی حادثات کے وزیر نے متاثرہ افراد کو صبر کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ شہابِ ثاقب گرنے کے بعد علاقے میں تابکاری کی مقدار نارمل ہے۔

ماسکو سے ڈیڑہ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چیلبانسک کے علاقے جہاں شہاب ثاقب کے ٹکرے گرے تھے وہاں ایک جوہری پلانٹ اور بڑی تعداد میں فیکٹریاں قائم ہیں۔

شہاب ثاقب کے بعض ٹکڑے ایک سکول پر گرے جس سے کئی بچے بھی زخمی ہوگئے تھے۔

روسی حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بیشتر افراد کو معمولی خراشیں آئیں لیکن بعض کے سر میں چوٹیں بھی آئیں۔

چلیابِنسک کی رہائشی پولینا نے بتایا ’ ہم نے چونکا دینے والی روشنی دیکھی۔ پھر آسمان میں سفید اور پیلے رنگ کی شعاع بنی۔ بڑی چوڑی اور لمبی شعاع تھی جو کئی سیکنڈ تک رہی۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اتنا زوردار دھماکہ تھا کہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے‘۔

شہاب ثاقب کے گرنے کے اس طرح کے واقعات شاز و نادر ہی ہوتے ہیں

اطلاعات کے مطابق روس کے علاقے یورال پر دہکتے ہوئے شہابیےگرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹر دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔

یورال کے علاقے چلیابنسک کی ایک رہائشی پولینا کا کہنا تھا کہ شہابیوں کی بارش کے باعث زمین لرز رہی تھی، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ رہے تھے اور گاڑیوں کے الارم بج رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کا اس سیارچے کے زمین سے گرنے کا کوئی تعلق نہیں جو جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو کرۂ ارض سے ستائیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔اس سائز کا یہ واحد سیارچہ ہے جو زمین کے اتنے قریب سے گزرے گا۔

شہاب ثاقب کے گرنے کے اس طرح کے واقعات شاز و نادر ہی ہوتے ہیں۔ اس سے قبل سنہ انیس سو آٹھ میں سائبیریا میں شہاب ثاقب کے گرنے کا واقع پیش آیا تھا جس سے تقریباً دوہزار مربعہ کلومیٹر کا علاقہ تباہ ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔