’زندگیاں بچانا میرا مشغلہ‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 فروری 2013 ,‭ 00:41 GMT 05:41 PST

یہ لوگ شارجہ میں شراب کے کاروبار پر کنٹرول کے جھگڑے میں ملوث پائےگئے تھے

وہ کون شخص ہے جس نے ایک ملین ڈالر کی رقم بطور خون بہا ادا کر کے اپنے سترہ ہموطنوں کو پھانسی کے پھندے سے بچا لیا۔

سریندر پال سنگھ دبئی کی ایک کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں نے حال ہی میں ان سترہ بھارتی شہریوں کو جنہیں ایک پاکستانی شخص کے قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی جا چکی تھی، بچانے کے لیے اپنی جیب سے ایک ملین امریکی ڈالر یعنی تقریباً دس کروڑ روپے ادا کی۔

بھارتی پنجاب کے قصبے ننگل سے تعلق رکھنے والے سریندر پال سنگھ اوبرائے اسی کی دہائی میں دبئی آئے۔ ایک سال بعد وہ واپس انڈیا لوٹ گئے لیکن پھر اپنا کارروبار شروع کرنے کے لیے دوبارہ متحدہ عرب امارت کا رخ کیا۔

سریندر پال سنگھ اوبرائے رفاعی کاموں کے لیے مشہور ہیں۔ وہ گزشتہ کئی سالوں میں خون بہا کی رقم ادا کر کے چون بھارتی شہریوں کی زندگیوں بچا چکے ہیں۔

سریندر پال سنگھ کہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی شہریوں کو رہا کرانے کے لیے تمام رقم اپنی جیب سے ادا نہیں کی بلکہ بائیس لاکھ ڈالر کے عطیات بھی اکھٹے کیے ہیں۔ البتہ حال ہی میں سترہ بھارتیوں کو بچانے کےلیے انہوں نے ایک ملین ڈالر کی رقم اپنی جیب سے ادا کی ہے۔

یہ لوگ دو ہزار نو میں شارجہ میں شراب کے کاروبار پر کنٹرول کے جھگڑے میں ملوث پائے گئے تھے جس میں ایک پاکستانی شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ عدالت نے ان پندرہ لوگوں کو پھانسی کی سزا سنا دی تھی۔

سریندر پال سنگھ اوبرائے کہتے ہیں کہ مقتول پاکستانی شخص کا خاندان شروع میں بہت رقم مانگ رہا تھا لیکن بعد وہ ایک ملین ڈالر پر رضامند ہوگیا۔

سریندر پال سنگھ اوبرائے کہتے ہیں کہ ایک ملین ڈالر کافی بڑی رقم ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ بہت امیر شخص ہے۔’ میری دولت کا نوے فیصد رفاعی کاموں میں خرچ ہوتا ہے کیونکہ مجھے زندہ رہنے کے لیے زیادہ دولت کی ضرورت نہیں۔‘

سریندر پال سنگھ کتہے ہیں’ یہ میرا مشغلہ بن چکا ہے، لوگ مجھے ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جو زندگیاں بچا سکتا ہے۔ میں ان کو مایوس نہیں کر سکتا۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔