سفید فام لندن کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 16:19 GMT 21:19 PST

نئی صدی کے پہلے عشرے میں لندن میں سفید فام آبادی کی تعداد میں اتنی کمی واقع ہوئی ہے کہ اب لندن میں سفید فام آبادی اقلیت میں بدل چکی ہے۔

سن 2001 سے 2011 کے درمیان چھ لاکھ بیس ہزار سفید فام باشندے لندن چھوڑ گئے ہیں اور یہ آبادی سکاٹ لینڈ کے شہرگلاسگو کی آبادی کے برابر ہے۔

سفید فام آبادی کی لندن سے نقل مکانی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اب لندن کی پچپن فیصد آبادی غیر سفید فام باشندوں پر مشتمل ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سفید فام لوگ کیوں لندن کو چھوڑ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔

مردم شماری کے نئے اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے سے لندن سےسفید آبادی کا انخلاء ایک مثبت کہانی معلوم ہوتی ہے۔

لندن سے سفید فام آبادی کی نقل مکانی کو اکثر تارکین وطن کی طرف سے سفید فام آبادی کو لندن سے باہر دھکیلنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

شاید یہ کہانی کا ایک حصہ تو ضرور ہو لیکن یہ پوری کہانی نہیں ہے۔

انگلینڈ اور لندن کے جن علاقوں سے سفید فام آبادی دوسرے علاقوں کا رخ کر رہی ہے ان میں نیو ہیم، بارکنگ اور ڈیگنہم ، ریڈبریج، ہیروؤ، اینفیلڈ، لیٹنسٹون، برینٹ، سلاؤ اور لوٹن شامل ہیں۔

لندن میں سفید فام لوگوں کی آبادی چھ لاکھ بیس ہزار کم ہوئی ہے لیکن انگلینڈ کی سفید فام آبادی میں دو لاکھ بیس ہزار افراد کا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

سفید فام آ بادی لندن سے نکل کی ساؤتھ ڈربیشائر، نارتھ کیسٹیون لنکنشائر،اٹلسفورڈ ایسکیس،ایسٹ نارتھمٹن شائر، ویسٹ لنڈزے لنکنشائر، ایسٹ کیمبرج شائر، مڈ سفولوک، ساؤتھ نارفوک، مڈ ڈیون، فارسٹ ہیتھ، سفوک، سینٹ ایڈمنڈزبری سفوک اور کیٹرنگ نارتھہمٹن شائر شامل ہیں۔

لندن سے سفید فام آبادی کے چلے جانے کو دیہاتی علاقوں میں رہنے کےخواب کی تکمیل سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ دیہی علاقوں کی طرف رخ اپنی مرضی سے ہو رہا ہے یا وہ مجبوراً لندن کو چھوڑ رہے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ سفید فام لندن کو کیوں چھوڑ رہے ہیں، میں نے بارکنگ اور ڈیگنہم دورہ کیا۔ سنہ 2001 میں بارکنگ اور ڈیگنہم میں سفید فام آبادی کا تناسب اسی فیصد تھا جو دو ہزارگیارہ میں گھٹ کر انچاس فیصد رہ گیا ہے۔

بارکنگ اور ڈیگنہم میں فورڈ کار کمپنی کے قائم ہونے سے لندن میں رہنے والے ہزاروں لوگوں کو روزگار مہیا ہوا تھا لیکن اب اس کار پلانٹ میں روزگار کے مواقع بہت کم ہو چکے ہیں۔ بارکنگ اور ڈیگنہم میں سفید فام آبادی کے چلے جانے کے بعد افریقی نژاد لوگ اس علاقے کا رخ کر رہے ہیں۔

ڈیگنہم کی شاپنگ سٹریٹ میں میری ملاقات ایک سفید فام پینشنر سے ہوئی جو علاقہ چھوڑ کر ساحل سمندر پر واقع کلیکٹن آن سی جانے کی تیاری میں ہیں۔

مجھے ایک مقامی کونسلر نے بتایا کہ ان کے والدین نے ڈیگنہم میں اپنا گھر بیچ کر لنکنشائر میں کئی کنال پر پھیلا ہوا ایک کاٹیج خرید لیا ہے۔ ایک اور عورت نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ساؤتھ اینڈ میں ایک گھر پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ڈیگنہم میں اپنا گھر بیچنا چاہیں گی۔

لندن سے سفید فام آبادی کا انخلاء زندگی کی آخری خواہش کی تکمیل ہے اور یہ منفی نہیں بلکہ ایک مثبت خبر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔