شام: کار بم دھماکے میں ترپن افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 17:46 GMT 22:46 PST
فائل فوٹو، دمشق میں کار بم دھماکہ

شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تحریک میں ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق میں ایک طاقتور کار بم دھماکے میں کم از کم ترپن افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے حکمران جماعت بعث پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک ہونے والے اس دھماکے کا ذمہ دار دہشت گردوں کو ٹھہرایا ہے۔

ٹیلی ویژن مناظر میں لاشیں، گاڑیوں کا ملبہ اور کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے پڑے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری تحریک میں ستر ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ کار بم دھماکہ تھا جو حمکران جماعت کے دفاتر اور روسی سفات خانے کے قریب ہوا۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک نگراں ادارے کے مطابق دھماکے میں کم از کم بیالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔

دھماکے کے بعد اطراف کی سڑکوں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور جلد ہی امدادی کارروائیاں شروع کی دی گئیں۔

عینی شاہدین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کار بم دھماکہ بعث پارٹی اور روسی سفارت خانے کے درمیان قائم ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہوا۔

ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ’بہت بڑا دھماکہ تھا، دکان میں ہر چیز نیچے گر پڑی، دکان میں کام کرنے والے تین ملازم زخمی ہو گئے ہیں اور دکان کے باہر گزرنے والی ایک لڑکی شیشوں کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہو گئی، وہ اس لڑکی کو دکان کے اندر لائے لیکن اس وقت تک وہ انتقال کر چکی تھی۔‘

سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکہ ایک سکول اور کلینک کے قریب ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کار بم دھماکے کے فوری بعد دارالحکومت میں فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر دو مارٹر گولے گرے ہیں۔

دریں اثناء دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں حکومتی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز فضائی طاقت کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔