ایران نے سینٹری فیوجز نصب کرنا شروع کر دیے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 18:15 GMT 23:15 PST

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری مرکز نطنز‎ میں یورینیم کی افزودگی کے لیے درکار جدید سینٹری فیوجز نصب کرنے شروع کر دیے ہیں۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اسے شک ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دھماکوں کے تجربے بھی کیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس اقدام سے عالمی طاقتوں کو تشویش ہو گی جو آئندہ ہفتے ایران سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے والی ہیں۔

بی بی سی کو آئی اے ای اے کی رپورٹ کی حاصل ہونے والی کاپی کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایران کے جوہری پروگرام کے فوجی رخ جیسے نمایاں معاملات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کوئی وضاحتی رپورٹ نہیں دے سکتے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران سے بات چیت میں تیزی لانے کے باوجود اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی کہ ایران کے جوہری پرگرام کے بارے میں سوالات کو ختم کیا جا سکے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے سے کہا تھا کہ وہ اپنے ایٹمی مرکز نطنز‎ میں یورینیم کی افزودگی کے لیے درکار آلات ’سینٹری فیوجز‘ کی تعداد بڑھا رہا ہے۔

سینٹری فیوجز کی تعداد بڑھانے کی صورت میں ایران تیزی سے یورینیم افزودہ کر سکے گا اور مغرب کے ایران کے بارے میں جوہری خدشات میں اضافہ ہو گا۔

ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکتا ہے۔

ایران نے تئیس جنوری کو آئی اے ای اے کو ایک خط کے ذریعے اپنے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس خط میں سینٹری فیوجز کے ماڈل ’آئی آر ٹو ایم‘ کا ذکر کیا گیا جو اس وقت ایران کے زیر استعمال سینٹری فیوجز کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ تیزی سے یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔

آئی اے ای اے کی کمیونیکشن کے مطابق ’ایجنسی کے سیکریٹریٹ کو ایران کے جوہری توانائی کے ادارے اے ای او آئی کی جانب سے تئیس جنوری کو موصول ہونے والے ایک خط میں بتایا گیا کہ سینٹری فیوج مشین ’آئی آر ٹو ایم‘ نتانز کے یونٹ اے بائیس میں استعمال کی جائے گی‘۔

امریکہ نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے لیے درکار آلات ’سینٹری فیوجز‘ کی تعداد بڑھانے کو اشتعال انگیز قدم قرار دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے ایران کے اس قدم کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔