شام: دمشق بم حملے میں متعدد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 22:02 GMT 03:02 PST
دمشق دھماکہ

دھماکہ دمشق میں حکمراں بعث پارٹی کے صدر دفتر کے قریب ہوا

اطلاعات کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک بڑے کار بم دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

شام نے اس دھماکے کا الزام القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروہوں پر لگایا ہے۔ یہ دھماکہ شام کی حکمران بعث پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے قریب مرکزی ڈسٹرکٹ میں کیا گیا۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں لاشیں، تباہ شدہ کاریں اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔

یہ تشدد اس وقت ہوا ہے جب روس اور عرب لیگ نے کہا ہے کہ وہ حکومت اور حزبِ مخالف میں براہ راست مذاکرات کرانا چاہتے ہیں۔

کسی گروپ نے ابھی تک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے دھماکے کا الزام ’مسلح دہشت گرد گروہوں پر لگایا ہے جن کا تعلق القاعدہ سے ہے اور جو بیرون ملک سے مالی اور تنظیمی مدد حاصل کر رہے ہیں۔‘

عسکریت پسند اسلامی تنظیم النصرا نے پہلے کہا تھا کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی شورش کے بعد سے اس نے کئی بم دھماکے کیے ہیں جنہوں نے شام کو ہلاک کر رکھ دیا ہے۔

دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جنگ کو ’کہیں نہ لے جانے والی سڑک‘ قرار دیا ہے۔

شام کا حزبِ مخالف کا اتحاد سیریئن نیشنل کولیشن مصر میں ایک دو روزہ اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں شام کے بحران کے کسی ممکنہ حل کے ڈھانچے پر غور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں شام میں کم از کم ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔