غیرملکی ڈرون پر قبضے کا ایرانی دعویٰ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 01:21 GMT 06:21 PST

ایرانی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون طیارہ کس ملک کا ہے

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے جنوب میں جاری فوجی مشق کے دوران ایک ایسا غیر ملکی ڈرون طیارہ پکڑ لیا ہے جو ملک کی فضائی حدود میں داخلے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک وار فیئر یونٹ نے سگنلوں کی مدد سے ڈرونز کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی جس پر طیارے کے نیویگیشن یونٹ پر کنٹرول حاصل کر کے اسے اتار لیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب ایرانی فوج کا خصوصی دستہ ہیں جن کی اپنی بحری فوج ہے۔

ایرانی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون طیارہ کس ملک کا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایران نے اپنی فضائی حدود سے غیر ملکی ڈرون طیارہ اتارنے کا دعویٰ کیا ہو۔

دسمبر 2012 میں بھی ایرانی حکام کی جانب سے امریکیوں کے زیرِ استعمال ’سکین ایگل‘ نامی قدرے کم پیچیدہ اور چھوٹے حجم کا ڈرون طیارہ اتارنے کا دعویٰ کیا تھا جسے امریکہ نے مسترد کر دیا تھا۔

اس سے ایک ماہ قبل نومبر میں امریکہ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی فضائی حدود میں اڑنے والے ایران کے ایک فوجی طیارے نے ایک امریکی جاسوس طیارے پر گولی چلائی تھی۔ ایران کا کہنا تھا کہ یہ امریکی طیارہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔

اس سے پہلے دسمبر 2011 میں امریکہ نے اپنے ایک جاسوس طیارے کے ایرانی حکام کے قبضے میں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ایرانی حکام نے گزشتہ ہفتے امریکی جاسوس طیار کی تصاویر ٹی وی پر نشر کی تھیں۔ ایران نے کہا تھا کہ انہوں نے اس ے آر کیو 170 طیارے کے الیکٹرانک نظام پر قابو پا کر اسے اتارا جبکہ امریکہ کا موقف تھا کہ طیارہ فنی خرابی کی وجہ سے ایرانیوں کے ہاتھ لگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔