برطانیہ:’حلال برگر میں گھوڑے کا گوشت‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 13:49 GMT 18:49 PST

سکولوں کو بیجھے گئے حلال برگروں کے ٹیسٹ میں گھوڑے کے گوشت کے ڈی این اے ملے

برطانیہ کی لنکا شائر کاؤنٹی میں حلال برگروں میں گھوڑے کے گوشت کا ڈی این اے سامنے آنے کے بعد سکولوں سے فروزن یا منجمد خوراک ہٹا لی گئی ہے۔

فروری کے اوائل میں جب فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی نے کاؤنٹی کے سکولوں میں بیف کے بنے کاٹیج پائی کے ٹیسٹ کیے تو اس میں گھوڑے کا گوشت تھا۔

اس کے بعد کاؤنٹی کی کونسل کو چار سکولوں کو بھیجےگئے حلال برگروں کے ٹیسٹ میں گھوڑے کے گوشت کے ڈی این اے ملے۔

کاؤنٹی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ بیف کے اکثر پکوان میں گھوڑے کا گوشت نہیں پایاگیا لیکن کاٹیج پائی اور چار سکولوں کو بھیجے گئے حلال برگروں میں گھوڑے کےگوشت کے ڈی این اے پائےگئے۔

انہوں نے کہا کہ ان سکولوں کو اس بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔

کاؤنٹی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ سکولوں کو بہت کم مقدار میں گوشت کے پکوان بھیجےجاتے ہیں اور طلباء و طالبات کو کھانے کے لیے دوسری بہت سی چیزیں میسر ہوتی ہیں۔

لنکا شائر میں مساجد کی کونسل نے کہا کہ یہ ’کراہت آمیز‘ ہے اور وہ سکولوں میں ہر قسم کی خوارک کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

مساجد کی کونسل سے تعلق رکھنے والے حنیف دودھدوالا نے کہا کہ’ ہمیں لنکا شائر کے کاؤنٹی کونسل پر بالکل اعتماد نہیں۔اور آج کے انکشاف سے ہمیں دھچکا لگا ہے۔‘

لنکا شائر کاؤنٹی کونسل کے رہنما جیف ڈرائیور نے کہا کہ کونسل کے پاس خوراک کو سکولوں سے ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’ہولناک‘ واقعہ ہے کہ ہمیں ایسے دو پکوانوں میں گھوڑے کا گوشت ملا ہے جو سو فیصد بیف کے ہونے چاہیئیں۔

جف ڈرائیور نے مزید کہا کہ یہ پکوان ایک ایسے کمپنی بناتی ہے جس کے پاس سارے سرٹیفیکٹ ہیں اور جنہوں نے ہمیں حال ہی میں لکھ کر یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی خوراک کی مصنوعات میں گھوڑے کا گوشت نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔