تائیوان کی مشہور ترین نوحہ گر

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

کسی اور کے غم میں رونا آسان نہیں ہے لیکن یہی لیو کا روزگار ہے

کسی کے کہنے پر رونا آسان بات نہیں ہے، لیکن لیو جُن لن کو ہر روز اجنبی لوگوں کے جنازوں میں یہی کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ تائیوان کی مشہور ترین پیشہ ور نوحہ گر ہیں۔

نوحہ گری تائیوان کی پرانی روایت ہے، لیکن اب یہ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

پروفیشنل نوحہ گری ایک متنازع روزگار ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ اس نے غم کو بھی تجارت بنا دیا ہے۔ لیکن لیو اور ان کی طرح کے دوسرے نوحہ گر کہتے ہیں کہ تائیوان میں ان کا پیشے کی طویل تاریخ ہے، جہاں مُردوں کو اگلے جہان کے پرسکون سفر پر روانہ کرنے کے لیے باآوازِ بلند رخصتی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

لیو کہتی ہیں، ’جب آپ کا کوئی عزیز فوت ہوتا ہے، تو جنازے کا وقت آتے آتے آپ کے آنسو خشک ہو جاتے ہیں۔ تو پھر آپ اپنے غم کا اظہار کس طرح کریں گے؟‘

لیو ماتمی ماحول قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگلے زمانوں میں بیٹیاں اپنا شہر چھوڑ کر دوسرے شہروں میں کام کاج کے لیے چلی جاتی تھیں، اور ذرائعِ آمد و رفت بھی محدود تھے۔ اگر خاندان میں کسی کی موت واقع ہو جاتی تو بیٹیاں وقت پر پہنچ نہیں پاتی تھیں، جس کی وجہ سے گھر والے کسی اور لڑکی کی خدمات حاصل کر لیتے تھے جو ان کی بیٹی کی قائم مقام بن کر خاندان کے لیے ماتم کا آغاز کرتی تھی۔

تائیوان میں روایتی جنازوں کی تقریبات بہت اہتمام سے ترتیب دی جاتی ہیں، جن میں ماتم اور بین کے ساتھ ساتھ دکھی جذبات کو تسکین بخشنے کے لیے تفریح کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔

"بعض اوقات پرفارمنس شروع ہونے سے پہلے ماتم کناں خاندان ہمارے ساتھ بہت ترشی سے پیش آتا تھا۔ لیکن کام ختم ہونے کے بعد وہ آنسو بھری آنکھوں سے بار بار ہمارا شکریہ ادا کرتے تھے۔"

نوحہ گر لیو

تفریح کے شعبے میں 30 سالہ لیو اور ان کا بینڈ بھڑکیلے لباس پہنتا ہے، اور بازی گروں کے سے کرتبوں پر مبنی رقص کا مظاہرہ کرتا ہے، جن میں قلابازیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان کا بھائی جی روایتی سازوں پر سنگت کرتا ہے۔

اس کے بعد لیو ایک سفید لبادہ پہن لیتی ہیں اور اور ہاتھوں اور گھٹنوں پر رینگتے ہوئے تابوت کی طرف جاتی ہیں، جہاں وہ اپنے بھائی کی چھیڑی ہوئی ماتمی دھن پر مخصوص بین کی صدا بلند کرتی ہیں۔

ان کے بین لمبے اور بلند بانگ ہوتے ہیں جن کے بیچ بیچ رونا اور گانا بھی شامل ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے گھر پر میرے لیے اپنے ایک خاص بین کا مظاہرہ کیا: ’میرے پیارے ابو، تمھاری بیٹی تمھیں یاد کرتی ہے۔ خدا کے واسطے واپس آ جاؤ!‘

میں نے لیو سے پوچھا کہ وہ موقعے پر آنسو کہاں سے لے آتی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ان کے آنسو اصلی ہوتے ہیں۔ ’آپ جس جنازے پر بھی جاتے ہیں، آپ کو اس خاندان کو اپنا خاندان تصور کرنا پڑتا ہے، تاکہ آپ اس میں اپنے جذبات ڈال سکیں۔ جب میں بہت سے لوگوں کو مغموم دیکھتی ہوں تو میں بھی مغموم ہو جاتی ہوں۔‘

جنازوں کے ڈائریکٹر لن ژین ژیانگ نے برسوں تک لیو کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لیو کی نسبتاً کم عمر کی وجہ سے انھیں زیادہ کامیابی اور مقبولیت ملی ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’عام طور پر ہم سجھتے ہیں کہ یہ بہت معمر لوگوں کا کام ہے۔ لیکن جن لن کم عمر اور حسین ہیں۔ یہ ایسا تضاد ہے جس سے لوگ بہت زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔‘

لیو کی ماں اور نانی دونوں پیشہ ور نوحہ گر تھیں۔

لیو کا بھائی ’جن‘ پسِ پردہ موسیقی فراہم کرتا ہے

کم عمری میں ان کی ماں جنازہ گاہوں میں کام کرتی تھیں تو وہ باہر کھیلتی رہتی تھیں۔ گھر میں جب ان کی والدہ اور بڑی بہن ریہرسل کرتی تھیں تو وہ ان کی نقل کیا کرتی تھیں۔

لیو کے والدین ان کے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے اور ان کی پرورش نانی نے کی، جنھیں بھاری قرض بھی چکانا تھا۔ اس لیے نانی نے لیو کو بھی اس کاروبار میں شامل کر لیا، جب ان کی عمر 11 سال تھی۔

انھیں اکثر سکول سے چھٹی کرنا پڑتی تھی۔ دوسرے بچے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

وہ کہتی ہیں، ’بچے کہتے تھے کہ یہ سب کچھ بہت عجیب اور بدنما ہے، اور تم احمق لگتی ہو۔ میں اپنے آپ کو کمتر سمجھتی تھی اور سوچتی تھی کہ دوسرے بچے مجھے ناپسند کرتے ہیں۔‘

البتہ کام کرنا بہت آسان تھا۔ لیو کہتی ہیں، ’بعض اوقات پرفارمنس شروع ہونے سے پہلے ماتم کناں خاندان ہمارے ساتھ بہت ترشی سے پیش آتا تھا۔ لیکن کام ختم ہونے کے بعد وہ آنسو بھری آنکھوں سے بار بار ہمارا شکریہ ادا کرتے تھے۔‘

یہ وہ موڑ تھا جب لیو کو اپنے کام کے اصل مقصد کا احساس ہوا: ’اس سے لوگوں کو صحیح معنوں میں اپنے غم کے اخراج کا موقع ملتا ہے، یا انھیں وہ کہنے کا موقع ملتا ہے جسے وہ باآوازِ بلند کہتے ہوئے گھبراتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں، ’اس سے ان لوگوں کو بھی مدد ملتی ہے جو رونے سے ڈرتے ہیں، کیوں کہ (اس موقعے پر) ہر کوئی رو رہا ہوتا ہے۔‘

لیو نے اپنی نانی کی رہنمائی میں تیزی سے تربیت حاصل کی اور ساتھ ہی ساتھ اس قدر کاروباری سوجھ بوجھ بھی پیدا کر لی جس سے ان کا خاندان غربت کی لکیر سے اوپر اٹھ آیا۔ اب لیو اور ان کے بہن بھائیوں کے اپنے اپنے گھر ہیں اور وہ ہر پرفارمنس کے 600 ڈالر کماتے ہیں۔

لیکن ژین ژانگ کہتے ہیں اب یہ کاروبار زوال پذیر ہے۔ معاشی سست روی اور جدید زندگی کی نسبتاً سادگی کی وجہ سے لوگ پرتعیش روایتی جنازوں سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’پیشہ ور نوحہ گر آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ لیو کی طرح کے لوگوں کو یا تو اپنے پیشے میں جدت لانی ہو گی یا پھر آمدنی کے نئے ذرائع ڈھونڈنا پڑیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔