’سری لنکن فوج تمل قیدیوں پر جنسی تشدد میں ملوث‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 20:49 GMT 01:49 PST

سری لنکا کی حکومت کے ترجمان نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سری لنکا کی فوج تمل قیدیوں پر دوران حراست جنسی تشدد میں ملوث رہی ہے۔

اس رپورٹ میں 2006 سے 2012 کے دوران ایسے مردوں، عورتوں اور بچوں سے مبینہ جنسی زیادتیوں کے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن پر تمل ٹائیگر باغیوں سے روابط کے الزامات تھے۔

رپورٹ میں مبینہ جنسی زیادتی اور تشدد کے پچھہتر واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعات کے طبی شواہد موجود ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکا کی حکومت سے ان معاملات کی تحقیقات کروانے کی اپیل کی ہے جبکہ سری لنکا کی حکومت نے ان الزامات کو ’جھوٹ‘ اور ’بکواس‘ قرار دیا ہے۔

سری لنکا میں حکومتی فوج اور علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والے تمل باغیوں کے مابین چھبیس برس تک تصادم جاری رہا تھا اور 2009 میں فیصلہ کن معرکے کے بعد تمل باغیوں کو شکست ہوگئی تھی۔

اس تنازع کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس تنازع کے دوران عموماً اور فیصلہ کن لڑائی میں خصوصاً فریقین نے اس وقت ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے جب ملک کے شمالی علاقے میں ہزاروں عام شہری جنگ زدہ علاقے میں پھنس گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنسی جرائم میں اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’جنگ کے دوران اور مئی 2009 میں جنگ ختم ہونے کے بعد تمل باغیوں اور ان کے حامیوں سے خفیہ معلومات اگلوانے کے لیے فوج اور پولیس نے جنسی زیادتی جیسا غیرقانوني طریقہ اپنایا تھا۔‘

سری لنکا میں حکومتی فوج اور علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والے تمل باغیوں کے مابین چھبیس برس تک تصادم جاری رہا تھا

ہیومن رائٹس واچ نے اکتیس مردوں، اکتالیس خواتین اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے تین لڑکوں سے ریپ کے مبینہ واقعات کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ ان تمام لوگوں کو تمل باغیوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے آسٹریلیا، برطانیہ، بھارت، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں رہائش پذیر ایسے افراد کے انٹرویو کیے جو سری لنکا میں زیرِ حراست رہے تھے۔ ان افراد کے بیانات کے مطابق جنسی جرائم میں شامل لوگوں میں سری لنکا کی فوج، پولیس اور حکومت نواز تمل نیم فوجی دستوں کے ارکان شامل ہیں۔

ان نتائج کی بنیاد پر رپورٹ میں سری لنکا کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان جرائم میں شامل لوگوں کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔

رپورٹ میں ساتھ ہی بغیر الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھنے کے قانون پر پابندی، انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملک کے شمالی علاقے میں جانے کی اجازت دینے اور ایمرجنسی اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت بغیر الزام حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے.

ادھر سری لنکا کی حکومت کے ترجمان نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہیلیا رمبوکویلا نے کہا ہے کہ ’اگر وہ الزامات لگا رہے ہیں تو انہیں ہمیں طبی ثبوت دینے چاہیئیں تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ آیا ہم تحقیقات کر سکتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ الزامات ملک کی شبیہ داغدار کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں اور یہ صریح جھوٹ ہیں۔ ان میں ایک فیصد بھی سچائی نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔