کابل میں برقع کا کاروبار مندی کا شکار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 23:36 GMT 04:36 PST

کابل میں کچھ خواتین برقع چھوڑ سر پر پہنے جانے والے سكارف اور دیگر حجاب کا استعمال کر رہی ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں برقعوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حالات میں تبدیلی اور بازار میں مسابقت کی وجہ سے ان کا کاروبار رو بہ زوال ہے۔

طالبان کے دورِ حکومت میں جسم کو مکمل طور پر ڈھکنے والا برقع خواتین کے لیے لازمی تھا لیکن اب کابل میں کم ہی خواتین ہیں جو برقع پہنتی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ چین سے آنے والے سستے برقعوں کی وجہ سے ان کی قیمت میں ایک تہائی کمی بھی آئی ہے۔

گزشتہ دس برس سے برقعوں کی سلائی کا کام کرنے والی خاتون مستورا نے بی بی سی کی کیرن ایلن کو بتایا کہ ’ کئی معنوں میں برقع افغانستان کی علامت رہا ہے لیکن یہ برقع افغان خواتین کی سعادت مندی کی علامت ہے یا ان پر موجود دباؤ کی۔ یہ نظریے پر منحصر ہے۔‘

مستورا کہتی ہیں کہ کابل میں اب ماحول بدل رہا ہے۔ ’پہلے خواتین پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا تھا۔ وہ بغیر برقع کے باہر نہیں جا سکتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ برقعوں کا کاروبار عروج پر تھا اور ان کی بہت زیادہ مانگ تھی۔

انہوں نے کہا، ’میں خدا کی شکرگزار ہوں کہ اب خواتین کے پاس آزادی ہے اور وہ برقع نہیں پہن رہی ہیں۔ اب ملک کچھ محفوظ ہو گیا ہے لیکن جب ہم کابل سے باہر جاتے ہیں تو ہمیں برقع پہننا پڑے گا۔‘

کابل کے اندرونی علاقے کی اس گلی میں برقعوں کی دكانیں ہیں لیکن اب ان میں سے کچھ بند ہو رہی ہیں جبکہ تھوک کا کاروبار کرنے والے دکاندار کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار آدھا رہ گیا ہے۔

گزشتہ بیس سال سے برقعے فروخت کرنے والے ایک دکاندار کے مطابق’یہاں علاقے کے حساب سے برقع کا رنگ ہوتا ہے۔ قندھار کے لیے بھورا رنگ جبکہ باقی پورے افغانستان میں نظر آنے والا نیلا رنگ۔‘

خواتین کے برقع کو نہیں بلکہ سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے: شمسی حسنی

چین سے آنے والے برقعوں کی وجہ سے بھی مقامی بازار میں برقعوں کی قیمت گر گئی ہے۔ جو برقع پہلے تقریباً 2500 افغانی میں ملتا تھا وہ اب صرف 700 میں مل جاتا ہے۔

اسی بازار کے دکاندار عبید کا کہنا ہے کہ انہیں برقعوں کا کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور اب وہ جوتوں کی دکان چلاتے ہیں۔ کابل میں عبید جیسے تاجر اور بھی ہیں۔

کابل میں اب جہاں کچھ خواتین برقع چھوڑ سر پر پہنے جانے والا سكارف اور ایسے ہی دیگر حجاب کا استعمال کر رہی ہیں لیکن شمسي حسني ایک مصور ہیں اور وہ برقع کا استعمال اپنے فن میں کر رہی ہیں۔

وہ جالی والے برقع کا استعمال کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ برقع طاقت کی علامت ہے نہ کہ دباؤ قبول کرنے کا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی تصاویر کے ذریعے سے وہ افغانستان میں خواتین کی صورت حال کو بیان کرتی ہیں۔ حسني نے کہا، ’میں دکھانا چاہتی ہوں کہ خواتین کے برقع کو نہیں بلکہ سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ خواتین پڑھ نہیں سکتیں، کچھ خواتین گھر سے باہر نہیں جا سکتیں، کچھ خواتین کو خاندان سے پریشانی ہے اور کچھ عورتوں کے پاس کوئی آزادی نہیں ہے۔ آزادی برقع ترک کرنے میں نہیں ہے، آزادی امن میں ہے۔‘

افغانستان میں خواتین کے لیے برقع کی علامت ترک کرنا ایک چیلنج ہے اور دارالحکومت کابل کے باہر برقع آج بھی ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔

کابل میں برقع کا کاروبار کم ہو رہا ہے اور روایت کو بچائے رکھنے اور تبدیلی کی ہوا کے درمیان ایک کشمکش صاف دکھائی دیتی ہے.

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔