بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 08:57 GMT 13:57 PST

دلاور حسین سیدی نے اپنے اوپر عائد انیس الزامات کو مسترد کیا ہے

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

دلاور حسین سیدی جماعت اسلامی کے سب سے سینیئر رہنما ہیں جنہیں ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے۔

دلاور حسین کو جون سنہ دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل عام، ریپ اور دیگر الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

ادھر جماعت اسلامی نے ٹربیونل کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے ملک کے کئی حصوں میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سزائے موت کے فیصلے کے بعد ہونے والے تشدد میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غائبندہ ڈسٹرکٹ میں ایک مقامی پولیس آفیسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں افراد نے جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت دینے کے حق میں مظاہرہ کیا۔

جنگی جرائم کے الزام کے تحت جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سے آٹھ کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ دو کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔ اب تک تین رہنماؤں کے خلاف فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔

دلاور حسین سیدی پر الزام ہے کہ وہ جنگ آزادی کے دوران البدرگروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے اور انہوں نے ہندو برادری کے افراد کو زبردستی مسلمان کرنے سمیت متعدد مظالم کیے۔

اس ٹربیونل نے پہلا فیصلہ اکیس جنوری کو سنایا تھا اور اس کے بعد سے لے کر اب تک تقریباً سینتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈھاکہ میں مظاہرین جماعت اسلامی کے رہنما کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس سے پہلے رواں ماہ بنگلہ دیشی پارلیمان نے آئین میں ایک ایسی ترمیم منظور کی تھی جس کے تحت جماعت اسلامی پر سنہ 1971 کی جنگ آزادی کی مخالفت کرنے اور انسانیت کےخلاف جرائم کا ارتکاب کےجرم میں پابندی عائد کی جا سکے گی۔

اس ترمیم کے تحت جماعت اسلامی کے ایک رہنما عبد القادر ملا کو دی جانے والی عمر قید کی سزا کو موت سزا میں تبدیل کرانے کے لیے حکومت اپیل دائر کر سکے گی۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اس حزب مخالف کا حصہ ہے جو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے۔

حکام کا اندازہ ہے کہ 1971 کی جنگ کے دوران تیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔