طالبان کی دھمکی پر فن کی طالبہ ممبئی میں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 05:41 GMT 10:41 PST
ملینا سلیمان

تیئیس سالہ ملینا سلیمان کو بچپن سے مصوری اور سنگ تراشی جیسے فنون میں دلچسپی رہی ہے

افغانستان کی ایک نوجوان جدید گرافٹی یا خاکے بنانے والی فنکارہ کو اپنے شہر میں پینٹنگ کرنے پر دھمکیوں کا سامنا تھا اور اب انہیں بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں نئی پناہ مل گئی ہے جہاں وہ مطمئن نظر آتی ہیں۔

افغانستان کے قندھار شہر سے آئی تیئیس سالہ ملينا سلیمان غیر ملکی ضرور ہیں لیکن ممبئی کے مشہور جے جے اسکول آف فائن آرٹس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ خود کو غیر ملکی بالکل نہیں سمجھتي۔

ملينا اپنے ملک کے روشن خیال اور جدید نظریات رکھنے والی روز افزوں آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

حالانکہ طالبان سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے لیکن انہوں نے کافی حد تک ان کا مقابلہ کیا لیکن جب طالبان کی دھمکیاں بڑھتی گئیں اور ان کے والد کی ٹانگ توڑ دی گئی تو انہوں نے اپنا ملک چھوڑ دیا۔

دو ماہ قبل اپنے ماں باپ کے ساتھ قندھار سے ممبئی آنے والی ملينا یہاں کی ’کھلی فضا میں آزادی سے سانس لے رہی ہیں‘ اور جب سے وہ یہاں آئی ہیں اس وقت سے کافی خوش ہیں۔

غیر اسلامی۔۔۔

"طالبان نے ہمیں انسانوں کی مورتیاں اور پینٹگ سے منع کیا کیونکہ ان کے مطابق یہ غیر اسلامی ہے۔ پہلے ہم نے ہار نہیں مانی اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن پھر انہوں نے میرے والد پر حملہ کیا اور ان کی ٹانگ توڑ دی تو ہمیں وہاں سے فرار ہونا پڑا"

ملينا سلیمان کا ’جرم‘ صرف یہ تھا کہ وہ شہر کی دیواروں اور چٹانوں پر پینٹنگ کیا کرتی تھیں اور اس کے علاوہ وہ سنگ تراشی میں بھی ماہر ہیں۔

ظاہر ہے طالبان کو ان کی ان فنون میں دلچسپی پسند نہیں آئی۔

وہ کہتی ہیں: ’طالبان نے ہمیں انسانوں کی مورتیاں اور پینٹگ سے منع کیا کیونکہ ان کے مطابق یہ غیر اسلامی ہے۔ پہلے ہم نے ہار نہیں مانی اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن پھر انہوں نے میرے والد پر حملہ کیا اور ان کی ٹانگ توڑ دی تو ہمیں وہاں سے فرار ہونا پڑا۔‘

آٹھ بھائی اور بہنوں میں سب سے چھوٹی ملينا کا بچپن سے ہی فن کی سے لگاؤ ہے۔ آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے وہ کراچی بھی گئیں اور بعد میں اپنے ملک لوٹ کر اس اہمیت کی تشہیر کرنے لگیں، لیکن شروع سے ہی انھیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ملينا کے مطابق: ’میں دیواروں اور چٹانوں پر پینٹنگ کرتی تو لوگ برا بھلا کہتے اور پتھر پھینکتے تھے۔ ہم دوسری جگہ جاتے وہ وہاں بھی چلے آتے۔ یہ سلسلہ کافی دنوں تک چلتا رہا۔‘

شروع کے دنوں میں ملينا کے والدین کو اس کے بارے میں معلوم نہیں تھا، لیکن ایک دن جب طالبان کی تحریری طور پر دھمکی آئی تو ان کے خاندان والوں نے انہیں گھر میں قید کر دیا۔ لیکن وہ گرافٹی کا کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بے تاب رہیں۔

ملینا سلیمان

ملینا سلیمان ممبئی کے جے جے سکول آف فائن آرٹس میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں

ملينا کے مطابق: ’میں ڈیڑھ سال تک گھر میں قید رہی، میرے سینے میں ایک طوفان امڈ رہا تھا۔ میں لوگوں سے ملنا چاہتی تھی۔ گھر پر انٹرنٹ بھی نہیں تھا۔ گھر کی اس قید میں مجھے یہ سمجھ میں آیا کہ میری طرح ملک میں اور بھی لڑکیاں ہوں گی جو اپنے فن کو سامنے لانا چاہتی ہوں لیکن ان کے گھر والوں نے انہیں روک دیا ہوگا ایسے میں میں نے اپنے خاندان سے بغاوت کر دی۔‘

ملينا کے مطابق: ’میں نے پینٹنگ کے بجائے گرافٹي کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ کام دیواروں پر ہوتا ہے جس کو زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھ سکتے ہیں۔‘

ملينا کا مقصد خواتین اور دیگر فنکاروں کی آزادی اور ان کی طرح تمام لڑکیوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

گرافٹي پینٹنگ کا بیڑا اٹھانے کا مقصد اپنے خاندان، قدامت پسند سماج اور طالبان کے خلاف بغاوت بھی تھا۔ انہیں ان کی اس جرات کے لیے خود صدر حامد کرزئی نے اپنے محل بلا کر شاباشي بھی دی تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں حکومت سے شکایت ہے۔

حکومت مرد اور عورت کے درمیان برابری کی صرف باتیں کرتی ہے، برابری پر عمل نہیں کرتی۔

مجھے نہیں معلوم

"اس وقت میں کشمکش میں ہوں۔ ایک طرف خاندانی مجبوریاں ہیں اور دوسری طرف طالبان کی دھمکیاں، میں کہاں جاؤں؟ میرا مستقبل کیا ہے مجھے نہیں معلوم"

ملينا مسلمان عورتوں اور فنکاروں کے لیے آزادی چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آزادی مغربی ممالک والی نہیں لیکن اسلام کے دائرے میں رہ کر بھی ہمیں بہت آزادی مل سکتی ہے۔

انہیں افسوس اس بات کا ہے کہ قندھار میں مسلم سماج طالبان کی سوچ کو تیزی سے اپنانے لگا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قندھار میں تمام طالبان ہیں لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمام طالبان جیسا ذہن رکھتے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’اس وقت میں کشمکش میں ہوں۔ ایک طرف خاندانی مجبوریاں ہیں اور دوسری طرف طالبان کی دھمکیاں، میں کہاں جاؤں؟ میرا مستقبل کیا ہے مجھے نہیں معلوم۔‘

لیکن غیر معینہ مستقبل کے باوجود ان کے چہرے پر نہ کوئی شكن ہے اور نہ ہی مایوسی کا احساس۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔