طالبان سے مذاکرات کا روڈ میپ کیا ہوگا؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 11:48 GMT 16:48 PST
مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کو کافی حمایت حاصل ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کی دعوت پر بلائی گئی کُل جماعتی کانفرنس کے بعد سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کالعدم تحریک طالبان سے بات چیت کا موضوع بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اس کانفرنس کے فوراً بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا موضوع حاوی رہا۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان مولانا امجد خان کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت نے امریکی سفیر پر واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔ ان کے مطابق امریکی سفیر نے اس بات (مذاکرات) کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس ملاقات کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس پورے معاملے کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی کُل جماعتی کانفرنس نے طالبان سے مذاکرات کی نہ صرف تائید کر دی ہے بلکہ اس قبائلی گرینڈ جرگے کی بھی مکمل حمایت کی ہے جو طالبان اور حکومت دونوں سے بات چیت کرے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی کُل جماعتی کانفرنس کے بر خلاف کالعدم تحریک طالبان نے جے یو آئی کی اے پی سی کے اعلامیہ کو مثبت قرار دیا ہے، مگر طالبان کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی فوج طاقت کا سرچشمہ ہے اور ان کے بغیر مذاکرات بے معنی ہونگے۔

طالبان کے اس بیان کے بعد یہ بات مختلف حلقوں کی جانب سے کی جا رہی ہے کہ طالبان اور حکومت کے مابین مذاکرات کے لیے روڈ میپ کیا ہے، کیا ہو سکتا ہے اور ان مذاکرات کا آغاز کہاں سے ہوگا؟ یہ جرگہ کتنا با اختیار ہے اور کیا افوج پاکستان مذاکرات کی حمایت کریں گی؟

اس قبائلی جرگے کے ایک رکن صادق شیرانی نے جرگے کا پس منظر اور اس کے با اختیار ہونے کے بارے میں بتایا کہ گذشتہ سال جولائی سے اس جرگے پر کام ہو رہا ہے۔ ابتدائی طور پر 1200 سے زائد نمائندوں کو اس میں شریک کیا گیا تھا۔ فاٹا سمیت نیم قبائلی علاقوں سے بھی عمائدین اس میں شریک تھے جو گزشتہ کئی ماہ سے مقامی سطح پرکام کر رہے ہیں۔ اور پھر ان 1200 افراد میں سے 78 مشران کا انتخاب کیا گیا جو ایک مضبوط قبائلی پس منظر اور حمایت رکھتے ہیں۔

طالبان

طالبان کی شوریٰ کی جانب سے جن لوگوں کے نام دیے جائیں گے ان سے ہی مذاکرات کیے جائیں گے

صادق شیرانی کے مطابق اس جرگے میں عمائدین، علما اور سرکردہ افراد شامل ہیں جن کے فوج، طالبان اور حکومت سے اچھے رابطے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات میں فوج کی موجودگی یا شرکت اور ان کے بغیر مذاکرات کے عمل کے ادھورے ہونے پر جرگے کے ایک اور رکن سینیٹر مولانا صالح شاہ نےکہا کہ طالبان کی جانب سے تین سیاسی رہنماؤں کی ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات ان کی نگرانی اور اعتماد سے شروع کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ان مذاکرات میں رکاٹ نہیں بنے گی۔

صالح شاہ کے مطابق حکومت اور فوج سے جو بھی بات ہوگی وہ گورنر خیبر پختونخوا کی ذریعے سے ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر کا فوج اور حکوت دونوں سے رابطہ ہے۔ خود ان کا تعلق بھی قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ہے اس لیے وہ تمام معالات کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ علاقے کی صورتحال اور وہاں پائی جانے والی مشکلات سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لیے ان کو معاملات سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ قبائلی علاقوں میں بہت سے طالبان گروپ کام کر رہے ہیں، تو کس کس سے بات چیت ہوگی؟ سینٹر صالح شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں کہ وہاں پر مختلف گروہ ہیں لیکن ان تمام گروہوں کی اپنی ایک مشترکہ شوریٰ بھی ہے جن سے قبائلی عمائدین واقف ہیں۔ طالبان کی شوریٰ کی جانب سے جن لوگوں کے نام دیے جائیں گے ان سے ہی مذاکرات کیے جائیں گے اور وہی لوگ ان کے نمائندے تصور کیے جائیں گے ۔

سینیٹر صالح کا کہنا تھا کہ طالبان کا بھی اس منتخب جرگے پر مکمل اعتماد ہے۔ اس سوال پر کہ طالبان سے بات چیت کا آغاز کیسے ہوگا، انھوں نے کہا کہ کہاں سے اور کیسے اس کام کا آغاز کیا جائے گا یہ باتیں میڈیا سے شیئر نہیں کی جائیں گی۔ ا ن کے مطابق ماضی میں جو جرگے ہوئے تھے وہ یا تو صوبائی حکومت، گورنر یا کورکمانڈر کے ساتھ ہوئے اور وہاں کوئی ضامن بھی نہیں تھا۔ اس بار تو پورے پاکستان کی سیاسی قیادت اس جرگے کی پشت پر ہے۔

یہ جرگہ کتنا موثر ثابت ہوسکتا ہے، اس پر اسلام آباد میں موجود دانشور، سیاسی تجزیہ کار اور خطے کے امور کے ماہر جان محمد اچکزئی کا کہنا ہے کہ اگر اس جرگے کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا تو اس کے انتہائی مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

ان کے مطابق پاکستان میں ہرشخص اور ہر جماعت کی خواہش ہے کہ امن قائم ہو اور الجھے ہوئے مسائل کا حل سامنے آئے لیکن طریقۂ کار کسی نے بھی نہیں دیا۔ پہلی بار ملک کے انتہائی اہم مسئلے پرنہ صرف سنجیدگی سے بات کی گئی بلکہ اس کو سلجھانے کا راستہ بھی دکھایا گیا ہے۔

ان کے مطابق قبائلی جرگے کے پلیٹ فارم پر ہی دراصل اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جرگہ انتہائی بااثر قبائلی عمائدین پر مشتمل ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ عمائدین ایک ایسا درمیانی راستہ نکال لیں جو فریقین کے لیے قابل قبول ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔