ابوظہبی:94 افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 15:15 GMT 20:15 PST
متحدہ عرب امارات کے حکمراں

تمام امارات میں مخصوص شاہی خاندانوں کی حکمرانی ہے

متحدہ عرب امارات میں حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں چورانوے افراد کے خلاف مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔

ان افراد کو پچھلے سال چھاپوں کے بعدگرفتار کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ ابوظہبی میں وفاقی سپریم کورٹ میں جاری ہے۔

ان ملزمان میں جج، اساتذہ اور طلبا رہنما کے علاوہ حقوق انسانی کے دو نامور وکیل بھی ہیں۔ ملزمان میں بارہ خواتین بھی شامل ہیں۔

اگر اس مقدمے میں ملزمان کو قصوروار پایا جاتا ہے تو انہیں پندرہ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے اور انہیں سزا کے خلاف اپیل کا حق بھی نہیں ہوگا۔

گرفتار ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق الاصلاح نامی قدامت پسند مذھبی تنظیم سے ہے۔

متحدہ عرب امارت کی حکومت کا کہناہے کہ یہ افراد ایک خفیہ سیل کا حصہ تھے جس کے اخوان المسلمون سے روابط تھے۔ الاصلاح کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد شریعہ اور قدامت پسندی ہے۔

تاہم حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ترجمان نِک مکگیہن کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں اور ’جہاں تک ہم کو معلوم ہے الاصلاح سول سوسائٹی کی پُر امن تنظیم ہے جو روایتی اسلامی اصولوں پر قائم حکومت کے حق میں ہے۔‘

ملزمان میں انسانی حقوق کے وکیل محمد الرکن اور محمد المنصوری شامل ہیں۔ کئی ملزمان ایک سال سے حراست میں ہیں تاہم کچھ کو پچھلے سال جولائی اور اگست میں گرفتار کیا گیا تھا۔

"کئی ملزمان ایک سال سے حراست میں ہیں تاہم کچھ کو پچھلے سال جولائی اور اگست میں گرفتار کیا گیا تھا"

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل کے مطابق وکیل اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن احمد ناشمی الظفیری ان افراد کی جانب سے مقدمے میں مبصر کے طور پر جا رہے تھے تاہم ان کی متحدہ عرب امارت میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ حکومت نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

دورانِ حراست تشدد

عدالت میں ابتدائی پیشی کے دوران کچھ ملزمان نے بتایا تھا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہےجہاں چوبیس گھنٹے ہی بہت تیز روشنی ہوتی ہے اور جب ان کو کہیں لے جایا جاتا ہے تو آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔

پچھلے سال ایسی ایک عدالتی سماعت میں موجود ایک ملزم کے رشتہ دار نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا تھا کہ قیدیوں کی حالت ٹھیک نہیں دکھائی دے رہی تھی اور وہ پریشان اور گھبرائے ہوئے نظر آرہے تھے۔

امارات میں انسانی حقوق ایک وکیل نے بتایا کہ ملزموں کو تنہائی میں وکلاء سے ملنے نہیں دیا گیا ہے اور خاندان سے بھی بہت محدود ملاقاتوں کی اجازت ملی ہے۔

ان کے مطابق نومبر کے بعد سے ملزمان کو وکیل استغاثہ کے دفتر میں لایا جاتا ہے جہاں ماہ میں ایک بار ان کو خاندان والوں سے آدھے گھنٹے کی ملاقات کرائی جاتی ہے جس میں سکیورٹی اہلکار بھی موجود رہتے ہیں۔

ان کے مطابق ملزمان کی اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران وکیل استغاثہ وہاں موجود رہتا تھا اور یہ ’ان کے حقوق کی بنیادی خلاف ورزی ہے‘۔ تاہم متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ قیدیوں کےساتھ سلوک ’قانون کے مطابق کیا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔