افغانستان: 33 سال بعد روسی فوجی کی نشاندہی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 23:40 GMT 04:40 PST

افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں ایک روسی فوجی ملا ہے جو تینتیس سال پہلے افغانستان میں لاپتہ ہو گیا تھا۔

روس کی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کے مطابق اس روسی فوجی نے اپنا نام شیخ عبداللہ رکھ لیا ہے۔ اس فوجی کو سوویت یونین کے سابق فوجیوں کی تنظیم نہ ڈھونڈا ہے۔

سنہ 1980 میں وہ جنگ کے آغاز ہی میں زخمی ہو گئے تھے اور ان کو مقامی آبادی نے بچایا تھا۔

سوویت یونین کے سابق فوجیوں کی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شیخ عبداللہ ہرات کے شندند علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ سوویت یونین کی موٹرائزڈ رائفل یونٹ میں تھے۔

کمیٹی کے مطابق 264 فوجی ابھی بھی افغانستان میں لاپتہ ہیں جن میں سے نصف تعداد کا تعلق روس سے ہے۔

کمیٹی کے مطابق سوویت یونین کے انخلا کے دس سال بعد 29 لاپتہ فوجیوں کا سراغ لگایا گیا جن میں سے بائیس نے واپس جانے کا فیصلہ کیا جب کہ سات نے افغانستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

شیخ عبداللہ کا تعلق ثمرقند سے تھا۔ وہ شادی شدہ تھے لیکن ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین کا کہنا ہے کہ شیخ عبداللہ کے ہاتھ اور کندھے کانپتے ہیں۔ شیخ کو اب بھی ازبکستان میں اپنی رہائش گاہ اور عزیزوں کے کا نام یاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شیخ روسی زبان سمجھ تو سکتے ہیں لیکن بہت مشکل سے بول سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔