بنگلہ دیش:ہندو اور بودھ اقلیتیں بھی خوفزدہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST
بنگلہ دیش تشدد

جمعرات کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش میں تشدد کی لہر میں ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہندوؤں اور بودھوں کے مذہبی مقامات کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔

اس وجہ سے بنگلہ دیش میں بسنے والی اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

سنہ 1971 کی تحریک آزادی کے دوران قتل، عصمت دری اور اذیت دینے کے الزامات میں جماعت اسلامی کے دلاور حسین کو جمعرات کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد کئی مقامات پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔

اس دوران ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ بنگلہ دیش کی حزب اختلاف کی اہم جماعت بی این پی نے منگل کو ہڑتال کے بعد آج یعنی بدھ کو ملک گیر پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی کے ایتھراجن امبراسن چٹگاؤں کے ستخانیاں گاؤں پہنچے جہاں اتوار کو ایک مندر جلا دیا گیا تھا۔

ستخانیاں گاؤں کے ایک ہندو لیڈر پردیپ کمار چودھری نے بی بی سی کو بتایا: ’پچھلے ایک ہفتے میں ہندوؤں کے تین مندروں، ایک بودھ مندر، مہاتما بدھ کے پندرہ سولہ مجسموں، ایک یتیم خانے اور ایک ہائی سکول کو نقصان پہنچايا گیا ہے۔‘

"پچھلے ایک ہفتے میں ہندوؤں کے تین مندر، ایک بودھ مندر، پندرہ سولہ مہاتما بدھ کے مجسمے، ایک یتیم خانہ اور ایک ہائی اسکول کو نقصان پہنچايا گیا ہے"

مقامی پردیپ کمار چودھری

اس سوال کے جواب میں کہ یہ کام کس نے کیا تو انہوں نے کہا ’کبھی شرپسند عناصر ایسا کام کرتے ہیں تو کبھی کٹر مذہبی لوگ ایسا کرتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ یہ کس نے کیا ہے لیکن ان حالات میں کوئی کیسے ان کا نام لے؟‘

چودھری کے مطابق اقلیتیں انتہائی غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور یہاں تک کہ رات میں لوگ ٹھیک سے سو بھی نہیں پا رہے ہیں۔

اس دوران دارالحکومت ڈھاکہ میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں کم سے کم 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد کے واقعات دوسرے اضلاع میں بھی پھیلنے لگے ہیں جس کے سبب سکیورٹی فورسز کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن ملک کی اقلیتی برادری خوف کے ماحول میں سانس لے رہی ہے اور دیہی علاقوں میں خوف کا ماحول زیادہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔