جولان: یو این کی بیس مبصرین یرغمال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 20:48 GMT 01:48 PST

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام اور اسرائیل کے سرحدی علاقے جولان کی پہاڑیوں پر تیس مسلح باغیوں نے وہاں پر تعینات بیس مبصرین کو یرغمال بنا لیا ہے۔

اس سے قبل ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر شائع کی گئی جس میں مسلح افراد جو اپنے آپ کو شام کے باغی کہہ رہے تھے اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے قریب کھڑے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مبصرین اس علاقے میں شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر نظر رکھنے کے لیے تعینات تھے۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ٹیم کو اس علاقے کی جانب بھیج دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ مبصرین رسد پہنچانے گئے تھے جس وقت ان آبزرویشن پوسٹ 58 کے قریب روکا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ اس پوسٹ کو پچھلے ہفتے اس وقت نقصان پہنچا تھا جب اس کے قریب شامی فوج اور باغیوں میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

ویڈیو پر باغیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اراکین اس وقت تک رہا نہیں کیے جائیں گے جب تک شامی فوجیں جملا گاؤں خالی نہیں کرتیں۔

دوسری جانب فری سیریئن آرمی نے اقوام متحدہ کے اراکین کو یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے رہنما جنرل سلیم ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے اراکین کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بھی اراکیم کے یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔