دس لاکھ شامیوں کی بیرون ملک نقل مکانی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 08:50 GMT 13:50 PST

شام کا تنازع ایک مکمل اور بڑی تباہی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے:انتونیو گترس

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنارع سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے شامی باشندوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آغاز سے نقل مکانی کرنے والے شامیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ادارے کے مطابق پناہ گزینوں میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے جن میں سے بیشتر کی عمر گیارہ برس سے کم ہے۔

نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر شامیوں نے اردن، لبنان، ترکی، عراق اور مصر میں پناہ لی ہے۔

نقل مکانی کرنے والے بیشتر افراد اب مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں نکاسئ آب کے ناقص نظام اور سرد موسم کا سامنا کرنے کے لیے ناکافی وسائل جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں انتونیوگترس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کا تنازع ایک مکمل اور بڑی تباہی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور امدادی کارروائیوں کے لیے میسر وسائل تنگی کا شکار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس المناک کہانی کو ختم ہوجانا چاہیے۔‘ انتونیوگترس نے یہ بھی کہا کہ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے شام کے ہمسایہ ممالک پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

مثال کے طور پر لبنان میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی آمد ملک کی آبادی میں دس فیصد سے زائد اضافے کی وجہ بنی ہے۔

اس کے علاوہ ترکی نے جو کہ ایک لاکھ چوراسی ہزار پناہ گزینوں کا گھر ہے، سترہ پناہ گزین کیمپوں پر چھ سو ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

پناہ گزینوں میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے جن میں سے بیشتر کی عمر گیارہ برس سے کم ہے

انتونیوگترس نے کہا کہ ’شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھنے والے ان ممالک کی تعریف کے علاوہ ان کی مدد بھی کی جانی چاہیے۔‘

منگل کو اردن کے شاہ عبداللہ نے اقوامِ عالم سے اپنے ملک کے علاوہ ترکی اور لبنان کی مدد کی اپیل کی تھی جو لوگوں کی بڑی تعداد کی امداد کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافے نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے جن کا اندازہ تھا کہ پناہ گزینوں کی تعداد جون 2013 میں دس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شامی پناہ گزینوں کے لیے ادارے کے ایمرجنسی رسپانس منصوبے کو مطلوبہ فنڈنگ کا صرف پچیس فیصد ہی مل سکا ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف تحریک تقریباً دو برس قبل مظاہروں کی شکل میں شروع ہوئی تھی جنہوں نے بعد ازاں پرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔

اس تنازع میں اب تک ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بیس لاکھ ملک میں اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔