عراق کے تعمیر نو سے ’حاصل بہت کم‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 14:52 GMT 19:52 PST
عراق میں امریکی فوجی

عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار کے قریب فوجی ہلاک ہوئے

امریکہ کے جانب سے عراق میں کیے گئے تعمیر نو کا جائزہ لینے والی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس پر 60 ارب ڈالر خرچ کیے گئے لیکن اس سے حاصل بہت کم ہوا۔‘

عراقی تعمیر نو کا جائزہ لینے والے آڈٹر یا ’انسپکٹر جنرل‘ سٹیورٹ بووین کے مطابق اس منصوبے میں امریکہ کے کم سے کم آٹھ ارب ڈالر باکل ضائع ہو ئے۔

آڈٹر کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں بدعنوانی، ناقص سکیورٹی اور عراقی حکام سے نام کافی مشاورت شامل ہے۔

عراق کی جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور اس پر امریکہ نے 800 ارب ڈالر کے قریب خرچ کیے جبکہ اس جنگ میں اس کے پانچ ہزار کے قریب فوجی ہلاک ہوئے۔

’لرننگ فرام عراق‘ یعنی ’عراق سے سیکھے گئے سبق‘ نامی یہ رپورٹ امریکی کانگریس کو پیش کی گئی ہے۔ یہ انسپکٹر جنرل کی حتمی رپورٹ ہوگی جس کے بعد ان کا یہ کام ختم سمجھا جائے گا۔

رپورٹ میں آڈٹر کا کہنا ہے کہ عراق میں تعمیر نو کی ناکامیوں اور مسائل سے دنیا کے دوسرے ممالک میں تعمیر نو کے لیے سبق موجود ہیں۔

"عراق کی جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور اس پر امریکہ نے 800 ارب ڈالر کے قریب خرچ کیے جبکہ اس جنگ میں اس کے پانچ ہزار کے قریب فوجی ہلاک ہوئے"

یہ رپورٹ سیاستدانوں سے انٹرویوز کے علاوہ عراق میں کام کرنے والے درجنوں امریکی اور عراقی اہلکاروں کے ساتھ انٹرویوز اور سینکڑوں آڈٹ اور انسپیکشن رہورٹوں پر مبنی ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے آڈٹر کو بتایا تھا کہ امریکی پیسے کو غلط طریقے سے خرچ کیا گیا تھا۔

عراقی پارلیمان کے سپیکر اور سنی رہنما اسامہ النجیفی کا کہنا تھا کہ تعمیر نو کے زیادہ تر منصوبوں کا اثر منفی ہی رہا۔

کُرد اہلکار قباد طالبانی کا کہنا تھا کہ ’ان کا خیال تھا کہ کسی چیز کو ٹھیک کرنے کے لیے بس بہت سے پیسے ادھر ڈال دو۔ لیکن چیزیں اس طرح ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اس میں کوئی سوچ، کوئی حکمت عملی بھی ضروری ہے‘۔

رپورٹ کے بارے میں امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے ریپبلکن سینیٹر بوب کورکر کا کہنا تھا کہ رپورٹ سے جو معلومات سامنے آئی ہیں وہ حیبت ناک ہیں، اور ان سے افغانستان کے لیے سبق لینا ضروری ہے۔

اامریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2014 کے آخر تک افغاسنتان سے اپنی فوج واپس بلا لے گا۔ امریکہ نے افغاسنتان بارہ سال جاری رہبنے والے فوجی آپریشن پر 90 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔