پوپ کے انتخاب کے لیے چمنی لگ گئی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 17:56 GMT 22:56 PST
ویٹیکن

پوپ کے انتخاب کے بعد چمنی سے سفید دھواں نکلے گا

آگ بجھانے والے عملے نے پوپ کے انتخاب سے پہلے ویٹیکن کے سِسٹین چیپل پر چمنی نصب کر دی ہے۔

نئے پوپ کے انتخاب پر چمنی سے سفید دھواں نکلتا ہوا دکھائی دے گا۔

رومن کیتھولک کے کارڈینل 12 مارچ کو نئے پوپ کے انتخاب کا عمل شروع کر دیں گے۔

پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے تقریباً آٹھ سال تک پوپ رہنے کے بعد گذشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ گذشتہ چھ سو سالوں میں مستعفی ہونے والے پہلے پوپ ہیں۔

85 سالہ پوپ نے استعفے کی وجہ بگڑتی ہوئی صحت بتائی جس کی وجہ سے وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

ویٹیکن کے پریس آفس کے مطابق منگل کی صبح کو عبادت کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہو گا اور پہلا بیلٹ دوپہر تک متوقع ہے۔

اس شام پہلے ووٹ کے بعد چیپل کی چمنی سے دھواں باہر آئے گا۔ بہت ممکن ہے کہ وہ کالا ہو جس کا مطلب ہے کہ ابھی تک کوئی پوپ منتخب نہیں ہوا۔ پانچ دنوں کی عام بحث کے بعد ابھی تک 115 کارڈینلز میں سے ایک بھی نام سامنے نہیں آیا ہے۔

بدھ سے ہر صبح اور شام دو ووٹ کیے جائیں گے جب تک کوئی امیدوار 77 ووٹ یعنی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرتا ان بیلٹس کو مقامی وقت کے مطابق دن کے 12 بجے سے شام کے چھ بجے تک ہر سیشن کے بعد جلا دیا جائے گا۔ متفقہ امیدوار کے انتخاب کے بعد پھر سفید دھواں چمنی سے نکلے گا۔

ویٹیکن

آگ بجھانے والا عملہ سیسٹین چیپل کی چھت پر چمنی لگا رہا ہے

سِسٹین چیپل میں دوسری تیاریاں بھی جاری ہیں۔

چیپل میں دو چولہے نصب کر دیے گئے ہیں جو بیلٹ پیپرز کے جلائے جانے کے بعد سفید دھواں پیدا کریں گے۔

بی بی سی کے روم میں نامہ نگار جیمز رابنز کے مطابق مائیکل اینجلو کی پینٹنگ سے آراستہ چھت کے نیچے کارڈینلز کے لیے بیٹھنے کے لیے نشستوں کا انتظام کر دیا گیا ہے اور میزیں لگا دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی ٹیکنالوجی بھی نصب کر دی گئی ہے تاکہ موبائل فون یا دیگر آلات جو عمل کی راز داری کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں انہیں جام کر دیا جائے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی امیدوار بھی نظر نہیں آ رہا جو بینیڈکٹ XVI کے جانشین کے طور پر اپنا واضح مقام رکھتا ہو۔

2005 میں ہونے والے انتخابات صرف دو دن تک جاری رہے تھے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اجلاسوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ چرچ کو کتنے مسائل کا سامنا ہے۔

بینیڈکٹ کے دور حکومت کے دوران پادریوں کی طرف سے بچوں کے جنسی استحصال کی اطلاع پر کیتھولک چرچ ایک عالمی سکینڈل کی زد میں آ گیا تھا۔

اس کے علاوہ روایت پسند اور اصلاح پسندوں کے درمیان بھی تجرد، ہم جنس پرستوں کے حقوق اور خواتین کا کردار جیسے معاملات پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔