سعودی کارکنوں کو لمبی سزائیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 16:35 GMT 21:35 PST
محمد القحطانی

محمد القحطانی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے

سعودی عرب کی ایک عدالت نے ایک غیر قانونی تنظیم قائم کرنے اور بادشاہ کی حاکمیت کے خلاف بغاوت کرنے کے جرم میں انسانی اور سیاسی حقوق کے لیے کام کرنے والے دو افراد کو لمبی سزائیں سنائی ہیں۔

محمد القحطاني کو دس سال قید سنائی گئی جب کہ محمد الحامد کی پہلے دی جانے والی چھ سال کی سزا کو نہ صرف برقرار رکھا گیا بلکہ اس میں مزید پانچ سال شامل کر دیے گئے۔

عدالت نے ان کی تنظیم ’سعودی شہری اور سیاسی حقوق کی ایسوسی ایشن‘ (اے سی پی آر اے) کو تحلیل کر دیا ہے۔

اگلے ماہ ان کی سزا کے خلاف اپیل کو سنا جائےگا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ریاض میں مقدمے کی سماعت سعودی عرب کو سامنے رکھتے ہوئے غیر معمولی طور پر شفاف تھی اور دوسرے کارکنوں کو عدالتی کارروائی میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ وہ عدالتی کارروائی پر بات بھی کر سکتے تھے۔

تاہم جب فیصلہ سنایا گیا تو سیکورٹی حکام کو ان افراد کے حامیوں کو عدالت سے باہر نکالنا پڑا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ فیصلے کے مقاصد سیاسی ہیں۔

اے سی پی آر اے نے زیادہ جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی تھی اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی نشاندہی کی تھی۔

انتہائی قدامت پسند سعودی سلطنت میں سیاسی احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔

جن افراد کو سزا دی گئی ان کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے ’غلط معلومات‘ پھیلانے کا الزام بھی ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں ایک سماعت کے بعد القحطانی نے کہا تھا: ’ہم کئی سال سے اپنا کام کر رہے تھے۔ حکام ایک طویل عرصے تک خاموش رہے، لیکن اب وہ ہمارے پیچھے بری طرح پڑ گئے ہیں، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔