’ہلاکت فلسطینی حملے میں بھی ہو سکتی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 22:54 GMT 03:54 PST

حقوق انسانی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں غزہ کی جنگ کے دوران بی بی سی کے صحافی کا ایک بیٹا اور دو عزیز ہو سکتا ہے فلسطین کے راکٹ سے ہلاک ہوئے ہوں۔

اقوام متحدہ کے ادارۂ برائے حقوق انسانی ’او ایچ سی آر ایچ آر‘ کے مطابق اس نے یہ نتیجہ جائے وقوعہ پر ایک ماہ کے بعد جانے پر اخذ کیا۔

اس وقت حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں اسرائیل کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کی تردید نہیں کرتے کیونکہ اس وقت کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہوا۔

کلِک ’اس نے تو ابھی مسکرانا ہی سیکھا تھا‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں غزہ میں چونتیس بچے مارے گئے تھے۔

غزہ شہر میں ایک میزائل حملے میں بی بی سی کے صحافی جہاد مشراوی کا گیارہ ماہ کا بیٹا عمر اور دو قریبی رشتہ دار مارے گئے تھے۔

جب اسرائیل نے حماس کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے فوری بعد غزہ میں آپریشن شروع کیا تھا تو اس کے ایک گھنٹے بعد یہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اس وقت حقوق انسانی کی تنظیموں اور ہلاک شدگان کے لواحقین نے اسرائیل پر اس حملے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ اسرائیل کا ان الزامات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس نے حملے کی تردید کی تھی۔

نجی طور پر اسرائیلی حکام نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ایک شدت پسند کو ہدف بنا رہے تھے جو اس عمارت میں موجود تھا۔

اب اقوام متحدہ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس مکان پر راکٹ فلسطینی راکٹ گرا ہو اور یہ ان حقائق کے برعکس ہے جس میں اسرائیل فوج نے تصدیق کی تھی کہ تنازع شروع ہونے کے فوری بعد غزہ سے کوئی راکٹ فائر نہیں کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے میزائل حملوں میں تباہ ہونے والے مکان کا چار ہفتوں بعد دورہ کیا تھا۔

اہلکاروں نے کے مطابق انہوں نے فورنسک جانچ پڑتال نہیں کی لیکن ان کی ٹیم یہ نہیں سمجھتی کہ نقصان اسرائیل کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں ہوا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ واضح طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ یہ نقصان غلطی سے چلائے گئے فلسطینی راکٹ کے نتیجے میں ہوا۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کی فضائی حملوں میں فلسطین کے ہتھیاروں کے ایک گودام کو نشانہ بنانے کے بعد یہ دوسرا دھماکہ ہوا ہو۔

جہاد مشراوی نےاقوام متحدہ کی رپورٹ کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کسی نے ان سے بات نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر فلسطینی شدت پسند ایسے واقعات کے ذمہ دار ہوں تو وہ اہلخانہ سے معذرت کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کی صحت پر کوئی رائے نہیں دے سکتے ہیں لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ فلسطینی راکٹ غلط نشانے پر لگا ہو۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کے پہلے ایک گھنٹے میں ہمیشہ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں 169 شہری مارے گئے تھے جن میں سو عام شہری، تینتیس بچے اور تیرہ خواتین شامل تھیں۔ فلسطینی حملوں میں چار عام شہریوں سمیت چھ اسرائیلی مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔