آدم خوری کی منصوبہ بندی کا الزام ثابت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 20:37 GMT 01:37 PST

امریکی ریاست نیویارک کی پولیس کے ایک افسر پر اپنی بیوی کو قتل کرنے اور دوسری خواتین کو پکا کر کھانے کے منصوبے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ اٹھائیس سالہ گلبرٹو ویل کو ایف بی آئی نے گذشتہ برس ان کی بیوی کی اطلاع پر گرفتار کیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ گلبرٹو ویل نے ان خواتین جنہیں وہ جانتے تھے اغوا، تشدد اور کھانے کے منصوبے کو کس طرح عملی جامع پہنایا۔

اس مقدمے کے دفاع کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے موکل نے یہ اقدام غیر معمولی طور پر جوش پیدا کرنے والی ویب سائٹس دیکھ کر کیا۔

نیویارک کی مین ہٹن کی وفاقی عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ گلبرٹو ویل نے اپنے منصوبوں کے مطابق کس طرح ان خواتین سے رابطہ کیا۔

گلبرٹو ویل نے لوگوں کو رسیوں سے باندھنے اور یہ جاننے کے لیے کہ کیمیائی مرکبات کس طرح انسان کو بے ہوش کر سکتے ہیں انٹرنیٹ کے ذریعے تحقیق کی۔

اس مقدمے کے دوران گلبرٹو ویل کی ستائیس سالہ بیوی کیتھلین مانگن نے ان کے خلاف گواہی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی ای میلز ملی ہیں جس میں ان کے شوہر کے ان منصوبوں کی تفصیلات کا پتہ چلتا ہے جس کے مطابق وہ ان کا گلہ کاٹنے اور ان کی ایک دوست کو اغوا کر کے اسے مارنا چاہتے ہیں۔

منگل کو عدالتی فیصلے کے بعد نیویاک کے جنوبی ضلع کے اٹارنی پریٹ برارا نے کہا کہ’ آج ایک متفقہ جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ گلبرٹو ویل کے خواتین سے جامع اور مخصوص منصوبوں کے تحت جرائم حقیقت پر مبنی تھے اور انھیں جن جرائم میں ملوث قرار دیا گیا تھا وہ ان میں قصور وار ٹھہرائے گئے۔

لیکن گیل کے وکیل جولیا گیٹو کا کہنا ہے کہ جیوری نے صرف ’غیر معمولی، بھونڈے اور بدصورت خیالات ہی پر توجہ مرکوز کیے رکھی، لیکن اس بات پر نہیں کہ اس دوران کسی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔‘

انھوں نے کہا، ’یہ ایک خطرناک مقدمہ ہے جس کے بعد ہم لوگوں کے ذہنوں کو کھول کر ان کے اندر موجود خیالات کی بنیاد پر مقدمے چلانا شروع کر دیں گے۔‘

وکیلِ دفاع نے کہا کہ وہ جج سے استدعا کریں گی کہ جیوری کے فیصلے کو خارج کر دے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔