’آئرن ڈوم کی کامیابی دس فیصد سے زیادہ نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 17:20 GMT 22:20 PST

امریکہ کے میزائل ڈیفنس ٹیکنالوجی کے ماہر مانے جانے والے پروفیسر تھیوڈور پوسٹل نے اسرائیل کے آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ایم آئی ٹی کے پروفیسر پوسٹل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ڈیفنس سسٹم کی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ پچھلے سال غزہ میں حماس کے ساتھ مسلح تصادم میں آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے چوراسی فیصد میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کیا۔

اس تصادم میں اسرائیلی فضایہ، ڈرونز اور آرٹلری نے غزہ پر بمباری کی جبکہ حماس نے اسرائیل پر 1400 راکٹ داغے۔

اسرائیلی کمپنی رافیل کے تیارہ کردہ آئرن ڈوم نظام کو ہنگامی بنیادوں پر تیار کیا گیا تاکہ حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کو تباہ کیا جا سکے۔ اس نظام کی تیاری کے لیے رقم امریکہ نے دی تھی۔

پروفیسر پوسٹل نے اس نظام کے پچھلے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا اور اس کی کامیابی کے دعوے کو مسترد کیا۔

پروفیسر پوسٹل کا کہنا ہے کہ 1991 کی خلیجی جنگ میں بھی امریکہ کے پیٹریئٹ ڈیفنس سسٹم کی بڑی تعریف کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیٹریئٹ ڈیفنس پیٹریئٹ میزائل کی طرح اپنے ہدف سے کافی دور تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ پیٹریئٹ کی کامیابی کی شرح شاید دس فیصد یا پھر صفر تھی اور ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے ہدف پر لگا ہی نہیں۔

پروفیسر پوسٹل نے پچھلے سال کے مسلح تصادم میں استعمال کی جانے والے نظام کے زاویوں کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹم پر بھی تنقید کی۔

ان کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم صرف اس صورت میں میزائل کو مار گرا سکتا ہے اگر انٹرسیپٹر میزائل آنے والے میزائل کے ساتھ سامنے سے ٹکرائے۔

’اگر انٹرسیپٹر میزائل نیچے کی جانب جا رہا ہے اور آنے والا میزائل اوپر کی جانب تو ایسے میں وار ہیڈ تباہ نہیں ہو گا۔ اگر انٹرسیپٹر میزائل آنے والے میزائل کو ایک سائیڈ سے بھی ٹکرائے تو پھر بھی اس میں اتنی قوت نہیں ہو گی کہ وار ہیڈ کو تباہ کر سکے۔‘

پروفیسر پوسٹل کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح چوراسی فیصد نہیں بلکہ پانچ سے دس فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل چوراسی فیصد کامیابی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کو اعداد و شمار سے ثابت کرنا ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع کے حق کے وہ حامی ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ امریکہ کی رقم ایک ایسے نظام پر لگائی جائے جو کام ہی نہیں کرتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔