چمنی سے کالا دھواں، نئے پوپ پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 06:11 GMT 11:11 PST
ویٹیکن

چمنی سے سفید دھواں نکلنے کا مطلب ہو گا کہ نئے پوپ کا انتخاب ہو گیا ہے

روم میں سسٹین چیپل میں جمع ہونے والے کارڈینلز میں نئے مذہبی پیشوا کے انتخاب پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور چمنی سے کالا دھواں نکل رہا ہے۔

رومن کیتھولک عیسائیوں کے نئے مذہبی پیشوا کے چناؤ کے لیے کارڈینلز گذشتہ ماہ مستعفی ہونے والے پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کے جانشین کو منتخب کرنے کے لیے جمع ہیں۔

ایک سو پندرہ مذہبی رہنما منگل کو ’کانکلیو‘ یا اجتماع کے پہلے دن کسی ایک متفقہ امیدوار کے چناؤ میں ناکام رہے تھے۔

عیسائیوں کے نئے مذہبی پیشوا کے چناؤ کے لیے مزید ووٹنگ بدھ کی دوپہر شروع ہو گی۔

دو سو چھیاسٹھویں پوپ کا انتخاب کرنے والے 115 کارڈینل ہر روز چار بار ووٹنگ میں اس وقت تک حصہ لیں گے جب تک کوئی ایک امیدوار دو تہائی اکثریت یا 77 کارڈینلز کی حمایت حاصل نہیں کر لیتا اور سسٹین چیپل پر نصب چمنی سے سفید دھواں نہیں نکلتا۔

یہ بات متوقع تھی کہ پہلی ووٹنگ میں نئے پوپ کے انتخاب پر کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ مستعفی ہونے والے پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کی جگہ لینے کے لیے اب تک کوئی واضح امیدوار سامنے نہیں آیا ہے۔

نئے مذہبی پیشوا کے چناؤ کے لیے کوئی حتمی فیصلہ نہ آنے تک خاموشی کے ساتھ ووٹنگ ہو گی۔

روم میں نئے مذہبی پیشوا کے چناؤ کا نتیجہ جاننے کے لیے لوگ ایک بار پھر سینٹ پیٹرز سکوائر کے باہر جمع ہیں اور چمنی سے سفید دھواں برآمد ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

روم میں دوپہر کے کھانے کے بعد کارڈینلز سسٹین چیپل میں دوبارہ واپس آئیں گے۔

اس سے پہلے کارڈینلز نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ویٹیکن کے ایک ہوٹل میں گزاری جہاں ان کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ہوٹل میں قیام کے دوران انہیں اخبار پڑھنے، ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون کے استعمال کی اجازت بھی نہیں ہے۔

پوپ کے چناؤ کے لیے کارڈینلز کی بات چیت کو خفیہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

پیر کو ان کارڈینلز کو سہولیات فراہم کرنے والے نوے رکنی عملے سے رازداری کا حلف لیا گیا تھا جب کہ اس اجتماع کے دوران روزانہ سسٹین چیپل کی تلاشی لی جائے گی تاکہ وہاں گفتگو ریکارڈ یا نشر کرنے والا آلات کی موجودگی کو ناممکن بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے تقریباً آٹھ سال تک پوپ رہنے کے بعد گذشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

وہ گذشتہ چھ سو سالوں میں مستعفی ہونے والے پہلے پوپ ہیں۔ 85 سالہ پوپ جوزف ریتزنگر نے استعفے کی وجہ بگڑتی ہوئی صحت بتائی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

پوپ بینیڈکٹ کے دور میں پادریوں کی طرف سے بچوں کے جنسی استحصال کی اطلاع پر کیتھولک چرچ عالمی سکینڈل کی زد میں آ گیا تھا۔

اس کے علاوہ روایت پسند اور اصلاح پسندوں کے درمیان بھی تجرد، ہم جنس پرستوں کے حقوق اور خواتین کا کردار جیسے معاملات پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔