سعودی عرب میں سات افراد کو موت کی سزا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 02:34 GMT 07:34 PST

خیال رہے کہ سعودی عرب میں سال دو ہزار بارہ میں 69 لوگوں کو موت کی سزا دی گئی تھی۔

سعودی عرب میں حکام نے اقوام متحدہ کے ماہرین اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے اپیل کے باوجود سات افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر ابھا میں روایتی طریقے سے سر قلم کرنے کی بجائے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ان سات افراد کو سزائے موت دی گئی۔

ان افراد کو سال دو ہزار نو میں جرائم پیشہ گروپ تشکیل دینے، مسلح چوریاں اور جیولری کی دوکانوں کو لوٹنے کے الزام میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

منگل کو اقوام متحدہ کے غیر جانبدار ماہرین نے سعودی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد روک دیں۔

ماہرین نے ان افراد پر عائد کردہ الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ الزامات جعلی ہیں اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے انہیں سزا سنائی گئی تھی۔

صوابدیدی سزائے موت، ماورائے عدالت ہلاکتوں، سمری ٹرائل کے خلاف کام کرنے والے ایک اہلکار کرسٹوف ہینز نے کہا ہے کہ’ایسے ممالک جنہوں نے سزائے موت ختم نہیں کی وہاں پر یہ سزا صرف منصفانہ عدالتی کارروائی اور تحفظ کے عمل کی نگرانی میں دی جانی چاہیے۔‘

تشدد کے حوالے سے کام کرنے والے اہلکار جوآن مینڈز نے کہا ہے کہ’ ہمیں ان الزامات پر بھی سخت تشویش ہے کہ ان سات افراد پر دوران حراست تشدد اور دیگر خراب سلوک برتا گیا اور بیان پر زبردستی دستخط کرائے گئے۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ تو سعودی عرب نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی خلاف ورزی کی ہے۔

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت کو سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت ان افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے تو اس وقت ان میں سے دو بچے تھے۔

تنظیم کے مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے ڈائریکٹر فلپس لوتھر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ یہ ایک خونی دن تھا جب سات افراد کو تشدد کے ذریعے حاصل کردہ اعتراف جرم کی روشنی میں ایک ایسی عدالتی کارروائی میں موت کی سزا سنائی تھی جہاں ان افراد کو قانونی مدد حاصل نہیں تھی اور نہ ہی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل تھا۔‘

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے نے وزارت داخلہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ نہیں بتایا کہ ان سات افراد کو کس طریقے سے موت کی سزا دے دی گئی اور صرف اتنا بتایا کہ ابھا میں موت کی سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں سال دو ہزار بارہ میں 69 لوگوں کو موت کی سزا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔