کرد تنظیم نے آٹھ مغویوں کو حوالے کر دیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 12:08 GMT 17:08 PST
یرغمال بنایے گئے افراد

ان مغویوں میں مقامی اہلکاروں کے علاوہ فوجی بھی شامل تھے

کُرد عسکریت پسند تنظیم ’پی کے کے‘ نے دو سال سے یرغمال بنائے گئے آٹھ ترکوں کو رہا کر دیا ہے۔

خیال ہے کہ یہ اقدام پی کے کے اور ترکی کے درمیان امن کے عمل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ علیحدگی پسند کُرد تنظیم اور ترک حکام کے درمیان یہ لڑائی پچھلے تیس سال سے جاری ہے۔

رہا ہونے والے ان مغویوں کو دو سال سے شمالی عراق میں رکھا گیا تھا اور ان میں فوجی اور مقامی اہلکار شامل ہیں۔

ترکی میں قید پی کے کے رہنما عبداللہ اوجالان نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ اب دونوں فریقوں کی حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو رہا کر دینا چاہیے۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم بشیر الطالع نے مغویوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امن کے عمل میں سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’امن کا عمل ٹھیک چل رہا ہے۔ عوام اس کی حمایت کرتی ہے اور اس سے ہمیں بہت سی امیدیں ہیں۔‘

ترک صدر عبداللہ گُل نے کہا ’ہمیں خوشی ہے کہ یہ ترک شہری واپس آرہے ہیں جو اتنے لمبے عرصے سے اپنے ملک اور اپنا خاندانوں سے دور رہے ہیں۔‘

رہائی پر مذاکرات میں ترکی میں کُردوں کی امن اور جمہوریت پارٹی یعنی بی ڈی پی نے اہم کردار ادا کیا تھا اور مغویوں کو عراق میں انھی کے حوالے کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔