بچے جبری گود لینے پر آسٹریلوی وزیراعظم کی معافی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 02:24 GMT 07:24 PST

اس شرم ناک پالیسی نے دردناک وراثت چھوڑی ہے: جولیا گیلارڈ

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے ملک کے ان تمام لوگوں سے معافی مانگی ہے جو 1950 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران ملکی کی جبری پالیسیوں کی بدولت متاثر ہوئے تھے۔

ان دہائیوں کے دوران ڈھائی لاکھ غیر شادی شدہ اور زیادہ تر کم عمر خواتین سے ان کے بچوں کو حکومتی پالیسی کے تحت جبراً جدا کر کے انھیں بے اولاد شادی شدہ جوڑوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

بہت سی عورتوں کا کہنا ہے کہ ان سے زبردستی دستخط کروائے گئے تھے، یا وہ اس وقت نشہ آور دواؤں کے زیرِ اثر تھیں۔کچھ نے کہا کہ ان کے دستخط جعلی تھے۔

سینکڑوں متاثرین کے سامنے تقریر کرتے ہوئے گیلارڈ نے کہا کہ اس ’شرم ناک‘ پالیسی نے ’دردناک وراثت‘ چھوڑی ہے۔

انھوں نے آسٹریلوی دارالحکومت کینبیرا میں تقریر کرتے ہوئے کہا، ’آج اس پارلیمان میں میں آسٹریلوی عوام کی طرف سے ماؤں سے بچوں کو چھیننے کی پالیسی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔‘

’ہم ان شرمناک اقدامات پر افسوس کرتے ہیں جو آپ ماؤں سے روا رکھے گئے۔‘

وزیرِاعظم نے کہا کہ ماؤں کو ان کے حقوق کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔

اس دوران ہجوم میں موجود بہت سے لوگ رو پڑے۔ ان کی تقریر کا تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا گیا۔

گیلارڈ نے یہ اعلان بھی کیا کہ آسٹریلوی حکومت جبری گود لینے کی پالیسی سے متاثر ہونے والے افراد کا ریکارڈ رکھنے، انھیں نفسیاتی مدد فراہم کرنے کے لیے 50 لاکھ ڈالر فراہم کریں گی۔

گذشتہ جنوری میں سینیٹ کی ایک کمیٹی نے اس پالیسی کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد قومی معافی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ رپورٹ سینکڑوں عورتوں کی گواہیوں پر قائم کی گئی تھی۔

بہت سی عورتوں نے کہا تھا انھوں نے اپنے بچے اس لیے دے دیے تھے کہ اس دور میں بن بیاہی عورتوں کا ماں بننا کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔