اسرائیل کے ساتھ اتحاد دائمی ہے: اوباما

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 11:37 GMT 16:37 PST

یہ براک اوباما کا بحیثیت امریکی صدر پہلا اسرائیلی دورہ ہے

براک اوباما دوسری مدت کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل پہنچے ہیں جہاں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ اتحاد کو امریکہ کے لیے قابلِ فخر قرار دیا ہے۔

صدر براک اوباما کے دورے کے دوران احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تل ابیب پہنچنے پر انہوں نے تعطل کا شکار خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مقدس سرزمین پر امن قائم ہونا چاہیے۔‘

بن گورین ہوائی اڈے پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامن نتن یاہو اور صدر شمعون پیریز نے صدر براک اوباما کا استقبال کیا۔

اس کے بعد صدر براک اوباما کو میزائل کی وہ بیٹریاں دکھائیں گئی جو اسرائیل کی آئرن ڈوم دفاعی نظام کا حصہ ہیں۔

اپنے مختصر بیان میں انہوں نے کہا کہ ’جیسا کہ ہمیں مشکلات کے بارے میں واضح اندازہ ہے لیکن ہم اسرائیل کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن رہنے کی خیال کو کبھی نظروں سےاوجھل نہیں ہونے دیں گے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ’ امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے کیونکہ یہ ہماری بنیادی سکیورٹی کے مفاد میں ہے کہ ہم اسرائیل کا ساتھ دیں۔ ہمارا اتحاد دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔‘

اس موقع پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو نے صدر اوباما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ’اسرائیل کے اپنی دفاع کے حق کی تصدیق کرنے کا شکریہ۔‘

"جیسا کہ ہمیں مشکلات کے بارے میں واضح اندازہ ہے لیکن ہم اسرائیل کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن رہنے کی خیال کو کبھی نظروں سےاوجل نہیں ہونے دیں گے"

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما بدھ ہی کو بن یامن نتن یاہو سے ملاقات کریں گے جبکہ جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملنے کے لیے غربِ اردن جائیں گے۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری پہلے سے ہی اسرائیل میں موجود ہیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ اور ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے عزائم صدر اوباما کی اسرائیلی حکام سے بات چیت کا محور ہونگے۔

امریکی حکام اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ لوگ براک اوباما سے اس بات کی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کریں کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی کوششوں کو از سر نو بحال کر دیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی بستیاں آباد کرنے کے حمایتی اسرائیل کی نئی مخلوط حکومت میں اہم قوت تسلیم کیے جاتے ہیں۔

نمائندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل امن کوششوں کو دوبارہ بحال کرنے سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقے میں عدم استحکام کے بارے میں فکرمند ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری امن کوششیں 2010 میں اسرائیلی بستیوں کی جاری تعمیر کی وجہ سے تنازعے کا شکار ہوگئی تھیں۔

"یہ منہ پر ایک تماچہ ہے۔ لوگ ناراض اور مایوس ہیں کہ اپنے دورِ صدارت میں اب تک انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے اور قابض اسرائیل کو امداد جاری ہے"

ہویدا اعراف

شمالی امریکہ کے بی بی سی کے نمائندے مارک مارڈویل کا جو فی الحال یروشلم میں ہیں کہنا ہے کہ امریکہ میں براک اوباما کی اس بات پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انھوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اسرائیل کا دورہ نہیں کیا جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس ملک کے زیادہ قریب نہیں ہیں۔

ان کی انتظامیہ کی جانب سے بار بار دونوں ممالک میں ’اٹوٹ رشتہ‘ کی بات پر زور دیے جانے کے باوجود یہ دورہ نہیں ہو سکا۔

ان کے دورے سے قبل یروشلم اور مغربی کنارہ میں فلسطینیوں کے ڈی فیکٹو دارالحکومت رام اللہ میں اسرائیلی اور فلسطینی سکیورٹی فورسز جمع ہیں۔

اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں ملک کی معیشت اور سماجی مسائل خاص طور پر سامنے آئے اور صدر براک اوباما پہلے ہے کہہ چکے ہیں کہ وہ خطے کوئی بڑا امن منصوبہ نہیں لے کے جا رہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دو ملکی حل کے لیے وقت گزر جانے کی وارننگ کے درمیان صدر اوباما بات چیت شروع کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

صدر براک اوباما اور بین یامن نتن یاہو کا تعلق سردمہری کا شکار رہا ہے۔ اور حال میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق اسرائیل میں دس فی صد لوگ امریکی صدر کے حق میں ہیں۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ براک اوباما کے اس دورے کا خاص مقصد اسرائیلی عوام سے خطاب ہے اورخصوصاً خلیج کم کرنا ہے اور اپنی ساک بہتر کرنا ہے۔

مظاہرہ

یروشلم میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے

دریں اثناء اطلاق کے مطابق منگل کو فلسطینی مظاہرین رملّہ اور بیت الحم میں جمع ہوئے اور انھوں نے صدر اوباما کے پوسٹرز پر جوتے مارے اور گاڑی چلائی۔

ایک فلسطینی مظاہرہ کرنے والے ہویدا اعراف نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اوباما کا دورہ ’منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ لوگ ناراض اور مایوس ہیں کہ اپنے دورِ صدارت میں اب تک انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے اور قابض اسرائیل کو امداد جاری ہے۔‘

دوسری جانب اسرائيلی مظاہرین نے یروشلم میں براک اوباما سے جوناتھن پولارڈ کی رہائی کا مطالبہ کیا جو کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں 1987 سے امریکہ میں قید ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔