’عالمی تنہائی سے بچنے کے لیے پرانی نہج چھوڑنا ہوگی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 18:11 GMT 23:11 PST

براک اوباما اور نتن یاہو

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے موڑ پر آ چکا ہے جہاں اسے عالمی تنہائی سے بچنے کے لیے اپنی پرانی نہج کو چھوڑنا ہوگا۔

صدر اوباما نے جمعرات کو یروشلم میں اسرائیلی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا اسرائیل ایک خود مختار اور قابل عمل فلسطین کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔

اس سے قبل انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ رام اللہ میں ملاقات کے بعد کہا کہ اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیاں امن کے لیے غیر موزوں ہیں۔

امریکی صدر اوباما ان دنوں مشرقِ وسطی کے دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔

صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مخلص ہے۔اس کے علاوہ امریکی وزیرِخارجہ جان کیری اس معاملے کے حل کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کرنے کو تیار ہیں تاکہ دونوں فریق کو قریب لا سکیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ مذاکرات اچھے اور مفید رہے۔

امریکی صدر نے طے شدہ وقت سے طویل ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں جانب اختلافات ہیں مگر براہ راست مذاکرات ہی فلسطین اور اسرائیل کے لیے بہترین حل ہیں۔

دو ریاستی حل کے لیے اپنی تجویز دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ’میں مکمل طور پر یقین رکھتا ہوں کہ یہ اب بھی ممکن ہے مگر میرے خیال میں یہ بہت مشکل ہے‘۔

"اگر ہم براہ راست مزاکرات دوبارہ شروع کرسکیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک ممکنہ معاہدہ ہو جائے گا اور اگر دونوں فریقین اس میں آگے بڑھیں تو نے صرف میں بلکہ بہت سے لوگ بھی پریقین ہیں کہ بالآخر فلسھینی اور اسرائیلی عوام اس کی حمایت کریں گے میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ پوری دنیا اور خطے کے لیے باعث مسرت ہو گا۔"

امریکی صدر براک اوباما

صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ سادہ الفاظ میں فلسطینی اپنی ریاست کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرسکیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک ممکنہ معاہدہ ہو جائے گا اور اگر دونوں فریقین اس میں آگے بڑھیں تو نے صرف میں بلکہ بہت سے لوگ بھی پریقین ہیں کہ بالآخر فلسطینی اور اسرائیلی عوام اس کی حمایت کریں گے میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ پوری دنیا اور خطے کے لیے باعث مسرت ہو گا۔‘

محمود عباس نے فلسطینی حکام کی مسلسل حمایت کرنے پر اپنے امریکی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’تشدد ، قبضے ، آبادکاریوں اور گرفتاریوں یا مہاجرین کے حقوق سے انکار سے اسرائیل کے ساتھ امن حاصل نھیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت امید رکھتی ہے کہ اگر اسرائیل مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ بستیوں کی تعمیر روک دے۔‘

صدر اوبامہ کہ دورے کے موقع پر ڈیرھ سو کے قریب فلسطینیوں نے رام اللہ میں پرامن مظاہر کیا جنہیں فلسطینی صدر کی قیام گاہ کی جانب جانے سے روک دیا گیا۔

"تشدد ، قبضے ، آبادکاریوں اور گرفتاریوں یا مہاجرین کے حقوق سے انکار سے اسرائیل کے ساتھ امن حاصل نھیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت امید رکھتی ہے کہ اگر اسرائیل مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ بستیوں کی تعمیر روک دے۔"

فلسطینی صدر محمود عباس

اس سے قبل امریکی صدر اوباما اسرائیل کے اپنے پہلے دورے پر تل ابیب پہنچے تھے اور انہوں نے اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے دائمی تعلقات کا اعادہ کیا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس موقعے پر ایران پر مشترکہ اور سخت موقف اختیار کیا۔

یروشلم میں بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس ’خود اپنے دفاع کا اختیار‘ موجود ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

صدر اوباما کا استقبال بن گوریان ہوائی اڈے پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامن نتن یاہو اور صدر شمعون پیریز نے کیا جس کے بعد صدر براک اوباما کو میزائل شکن دفاعی نظام دکھایا گیا جسے ’آہنی گنبد‘ کہا جاتا ہے۔

یروشلم میں مذاکرات کے بعد نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اس بات کی بہت قدر کرتے ہیں کہ امریکی صدر نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے بعد پہلا بیرونی دورہ اسرائیل کا کیا ہے۔

صدر اوباما نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ امریکہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مخلص ہے۔

انھوں نے صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ’ہمارے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان تعلق کو پختہ بنانے کے لیے محنت کی ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے اہداف مشترکہ ہیں۔

صدر اوباما نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

صدر نتن یاہو نے صدر اوباما کے ایران پر موقف پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ’پورا یقین‘ ہے کہ صدر اوباما ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے کلی طور پر پرعزم ہیں۔

اسرائیلی صدر نے کہا کہ وہ اور صدر اوباما دونوں شام کو پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگیں۔

نتن یاہو کی حکومت کی تشکیل کو ابھی صرف دو دن ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے متمنی ہیں: ’ہم فلسطینی عوام کی طرف امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘

"مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست بھی موجود ہو۔"

صدر اوباما

انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر کے دورے سے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع ہو گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ اسرائیلی کی سلامتی ایک ’سنجیدہ فرض‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو فوجی امداد دینے پر بات چیت کی جائے گی اور امریکہ آہنی گنبد کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔

یاد رہے کہ صدر اوباما نے اس سے قبل یروشلم میں کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ’ایک مضبوط اور محفوظ یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست بھی موجود ہو۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔