شام میں دھماکا، درجنوں افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 21:39 GMT 02:39 PST

امام البوطی شامی حکومت کے پرانے وفادار تھے

شام کے شہر دمشق کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں صدر بشار الاسد کے ایک ممتاز سنی حامی سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبررساں ادارے سانا کے مطابق امام مسجد میں ہونے والے اس دھماکے میں شیخ محمد البوطی سمیت 41 افراد مارے گئے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی تصویروں میں جائے وقوعہ پر لاشیں اور زخمی دکھائے گئے ہیں۔

باغی جماعتوں کی تنظیم فری سیریئن آرمی نے کہا ہے کہ یہ حملہ انھوں نے نہیں کیا۔

سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ یہ دھماکا ایک خودکش حملہ آور نے کیا جو مسجد کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

84 سالہ البوطی مسجد میں مذہبی درس دے رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ان کا پوتا بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا، ’ہم نے اچانک دھماکے کی آواز سنی۔ ہم دوڑ کر مسجد کے اندر چلے گئے اور دیکھا کہ لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔‘

البوطی کا تعلق سنی اکثریت سے تھا، جنھوں نے صدر اسد کے خلاف بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ لیکن وہ بشارالاسد کے سرگرم حامی تھے۔

"ہم نے اچانک دھماکے کی آواز سنی۔ ہم دوڑ کر مسجد کے اندر چلے گئے اور دیکھا کہ لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔"

ایک عینی شاہد

البوطی اکثر شامی ٹیلی ویژن پر درس دیتے تھے، اور انھوں نے شامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ باغیوں کے خلاف سرکاری فوج کی حمایت کریں۔

بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کہتے ہیں کہ یہ شامی حکومت کے لیے بہت بڑا نفسیاتی دھچکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ البوطی حکومت کے پرانے وفادار تھے، اور انھوں نے سنہ 2000 میں بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی تھی۔

ان کی موت کے اعلان کے ساتھ ہی سرکاری ٹیلی ویژن نے معمول کے پروگرام موقوف کر کے تلاوت نشر کرنا شروع کر دی۔

شامی حزبِ اختلاف کی کونسل کے صدر احمد معاذ خطی نے کہا کہ حزبِ اختلاف ’اس قتل کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے۔‘

انھوں نے قاہرہ میں خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ کسی بھی نقطۂ نگاہ سے جرم ہے اور اس کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔‘

یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس ہفتے سامنے آنے والے ان الزامات کی تفتیش کرے گی جن میں کہا گیا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔