تین سال بعد پشت سے چاقو برآمد

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 05:42 GMT 10:42 PST

بیلی میکنیلی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ مقامی محکمۂ صحت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے یا نہیں

کینیڈا میں ایک شخص پر چاقو کے وار کیے جانے کے تین سال بعد ڈاکٹروں نے اپریشن کے ذریعے ان کی پْشت سے چاقو کا بلیڈ نکالا ہے۔

کینیڈا کے شمال مغربی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیلی میکنیلی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ معمولی خارش اور درد محسوس کرتے تھے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی پْشت میں چاقو کا بلیڈ تھا۔

اس ہفتے ان کا ناخن بلیڈ کی نوک پر لگا جس سے انہیں اندازہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے ماضی میں جیل میں بھی کچھ وقت گزارا ہے۔ محافظ آپ کے جسم پر لوہا معلوم کرنے کے لیے آلا استعمال کرتے ہیں اور جب بھی یہ آلا میری پْشت کو لگتا تو یہ آواز نکالتا۔‘

بیلی میکنیلی نے کینیڈا کے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اپریل 2010 میں کْشتی کے میچ کے بعد ان کی کسی لڑائی ہوئی اور ان پر چاقو کے پانچ وار کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے ڈاکٹروں نے ان کی ایکس رے کرنے کے بجائے ان کے زخموں کو سی لیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے اعصاب کو نقصان پہنچا ہے اور وہ ایک لمبے عرصے تک اس بلیڈ سے ہونی والے تکلیف کے لیے دوائی لیتے رہے۔

لیکن اس ہفتے بتیس سالہ بیلی میکنیلی اپنی پشت کرید رہے تھے کہ جب ان کا ناخن کسی چیز سے ٹکرایا تو انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کو دیکھنے کے لیے کہا۔

بیلی میکنیلی کی گرل فرینڈ سٹیفینی سائین نے سی بی ایس کو کہا کہ’ میں نے بیلی کو بتایا کہ آپ کی پشت سے چاقو کا بلیڈ نکلا ہوا ہے اور میں ڈر گئی تھی۔‘

بیلی میکنیلی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ مقامی محکمۂ صحت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے یا نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔