پیرس:ہم جنس شادی کے مخالفین کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 21:58 GMT 02:58 PST

پولیس نے مظاہرین کو شانزے لیزے پر جانے کی اجازت نہیں دی

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے ملک میں ہم جنس پرست افراد کی شادی اور انہیں بچے گود لینے کی اجازت کے مسودۂ قانون کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین شہر کے مرکز میں محرابِ فتح کے نزدیک جمع ہوئے اور پولیس نے صدارتی محل کے ساتھ واقع شاہراہ شانزے لیزے پر پہنچے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی پھینکی۔

فرانسیسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے اس بل کی منظوری دے دی ہے اور سینیٹ اس پر آئندہ ماہ بحث کرنے والی ہے۔

فرانس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدر فرانسوا اولاند کے سوشلسٹ پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق فرانسیسی عوام کی اکثریت اب بھی ہم جنس پرست افراد کی آپس میں شادیوں کی حامی ہے لیکن اس تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

اتوار کو ہونے والے مظاہرے میں شامل افراد نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمیں کام چاہیے، ہم جنس پرست افراد کی شادی نہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔

مظاہرے کے موقع پر پولیس نے احتجاجیوں کو شانزے لیزے پر جانے کی اجازت نہیں دی جس پر مظاہرین اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پولیس نے شاہراہ پر جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے بیشتر افراد انتہائی دائیں بازو کے خیالات کے حامل گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔