بگرام جیل مکمل طور پر افغانی حکام کے حوالے

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 12:14 GMT 17:14 PST

اس جیل میں تین ہزار کے قریب طالبان اور مشتبہ دہشت گرد قید ہیں

افغانستان میں بگرام جیل جو اب تک امریکی حکام کی عملداری میں تھا پیر کو امریکہ نے باضابطہ طور پر اسے افغان حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

اس جیل پر امریکی کنٹرول کی وجہ سے دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن اب یہ معاملہ بھی حل ہوگيا ہے۔

جیل کی حوالگی کی تقریب قید خانے کے اندر ہی ہوئی اور اس جیل کا نام افغانستان میں’پراون نیشنل ڈیٹینشن فیسلٹی‘ رکھا گيا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈنفورڈ نے اس موقع پر کہا ’اس قید خانے کی منتقلی افغانستانی فورسز کو مجموعی طور پر سکیورٹی کی ذمہ داری سونپنے کا ہی ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تقریب افغانستان کی خودمختاری کی جانب بڑھتے اعتماد کی مظہر ہے۔‘

گزشتہ برس اسی ماہ میں امریکی اور افغان حکام کے درمیان قید خانے کی منتقلی کا معاہدہ ہوا تھا۔

اتوار کے روز امریکی محکمۂ دفاع نے کہا تھا کہ پیر سے بگرام جیل کا مکمل کنٹرول افغان حکام کے حوالے کر دیا جائےگا۔ اس تاریخ پر اتفاق امریکی اور افغان حکام کے مابین ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ہوا تھا۔

خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق اس معاہدے کے باوجود امریکی حکام جیل میں ان پچاس خاص قیدیوں کی نگرانی کرتے رہیں گے جنہیں امریکہ خطرناک سمجھتا ہے۔

اس سے پہلے پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے افغان صدر حامد کرزئی کی اس ضمانت کا خیرمقدم کیا ہے کہ افغان عوام اور اتحادی فوج کے تحفظ کی خاطر خطرناک افراد کو ایک محفوظ علاقے میں افغان قانون کے تحت قید رکھا جائے گا۔

"اس قید خانے کی منتقلی افغانستانی فورسز کو مجموعی طور پر سیکیورٹی کی ذمہ داری سوپنے کا ہی ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تقریب افغانستان کی خودمختاری کی جانب بڑھتے اعتماد کی مظہر ہے۔"

امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈنفورڈ

بگرام کے فوجی اڈے کے قریب واقع اس جیل میں اہم طالبان جنگجو بھی قید ہیں اور امریکہ جیل کے افغان کنٹرول میں چلے جانے کے بعد ان افراد کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔

امریکہ نے ستمبر 2012 میں بگرام جیل کا زیادہ تر حصہ افغانستان کے حوالے کر دیا تھا لیکن افغان حکومت کے اعتراض کے باوجود وہاں مقید چند درجن غیر ملکیوں سمیت کئی سو قیدیوں کا کنٹرول اپنے پاس ہی رکھا تھا۔

بعدازاں اس جیل کا مکمل کنٹرول افغانستان کے حوالے کیے جانے کے لیے نو مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جسے بغیر کوئی وجہ بتائے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

افغانستان کا موقف ہے کہ وہ بگرام جیل کا مکمل کنٹرول حاصل کیے بغیر امریکہ کے ساتھ طویل شراکت کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بگرام جیل سرکاری طور پر پروان حراستی مرکز کے نام سے جانی جاتی ہے اور افغانستان میں نیٹو افواج کے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک میں واقع ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران اس جیل کو قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات کے الزامات میں بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

اس جیل میں تین ہزار کے قریب طالبان اور مشتبہ دہشت گرد قید ہیں جبکہ یہاں سات کے قریب پاکستانی بھی قید ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔