برما: نسلی فسادات مزید علاقوں میں پھیل گئے

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST

برما سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق میں بدھ کو شروع ہوئے نسلی فسادات مزید علاقوں میں پھیل گئے ہیں اور مسجدوں اور مکانوں کو لوٹا اور نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق رنگون سے پچاس کلومیٹر دور اوح دی کون قصبے میں تین سو افراد نے مسجدوں اور مکانوں پر دھاوا بولا۔ ان افراد نے مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں نذرِ آتش کر دیں۔

یاد رہے کہ قصبے میکتیلا میں بدھوں اور مسلمانوں کے درمیان بدھ کو شروع ہونے والے نسلی فسادات کے واقعات کے بعد ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب برما کی حکومت کا کہنا ہے کہ نسلی فسادات ختم ہو جانے چاہیئیں کیونکہ ان فسادات کی وجہ سے جمہوری اصلاحات کو نقصان پہنچے گا۔

برما کے سرکاری ٹی وی چینل پر حکومتی بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان فسادات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

میکتیلا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے بعد مزید فوج بھیجی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق میکتیلا میں نسلی فسادات کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اوح دی کون سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر تتکون قصبے میں حملہ آوروں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی۔

اسی قصبے کے قریب ہی یامنسین قصبے میں بھی ایک مسجد اور پچاس کے قریب مکانات کو تباہ کردیا گیا ہے۔

میکتیلا کے مقامی ممبر پارلیمان وین تھیان نے جمعہ کو بی بی سی برمی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس ان تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی بدھوں کو گرفتار کیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے آٹھ کے قریب لاشیں دیکھیں۔ ان افراد کو جمعے کی صبح ہلاک کیا گیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مسلمان ان حملوں سے بچنے کے لیے علاقے سے فرار ہو گئے ہیں جب کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ روپوش ہوئے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جمعے کی صبح کی تناؤ والی فضا میں اب کچھ کمی واقع ہوئی ہے مگر میکتیلا میں فضا اب بھی خاصا تناؤ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کم از کم 15 بدھ بھکشوؤں نے جمعے کو مسلمانوں کے ایک خاندان کا گھر جلا دیا تھا جو کہ اس قصبے کے مضافات میں واقع تھا مگر اس میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

اس تشدد کا آغاز بدھ کے روز اس وقت ہوا جب ایک سنار کی دکان پر ہونے والی بحث طول پکڑ گئی۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم نے مسلمانوں کی ملکیتی عمارتوں کا آگ لگادی جن میں مسجدیں بھی شامل تھی۔

اس کے بعد مخالف گروہوں میں گلیوں میں دست بدست لڑائیاں شروع ہو گئیں۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں خوراک کی کمی ہے کیونکہ بازار گذشتہ پانچ دنوں سے بند ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں بلوہ پولیس علاقے میں بھیج دی گئی ہے جو جلتے ہوئے گھروں سے لوگوں کو نکلنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

تاہم پولیس پر الزام ہے کہ انھوں نے بڑے پیمانے پر علاقوں کو جلنے سے روکنے میں اور لوگوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کوئی اہم کارروائی نہیں کی۔

بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے ان واقعات نے گذشتہ سال میں رخائن کی ریاست میں ہونے والے نسلی فسادات کی یاد تازہ کر دی ہے جس کے نتیجے میں دو سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو علاقہ چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔

رخائن ریاست میں ہونے والے فسادات بدھ اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہوئے تھے جنہیں برما کے شہری تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ ان واقعات کے بعد سے لاکھوں افراد ان تشدد کے واقعات سے بچنے کے لیے وطن ترک کر گئے ہیں۔

حکومت نے اب تک اس تنازعے کے حل کے لیے کوئی طویل المدت منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔

بڑھتا ہوا خوف اور بدھ اور ملک کی مسلمان اقلیت کے درمیان پائے جانے والے عدم اعتماد کے نتیجے میں ملک کے سیاسی ماحول کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دو سال قبل ہی ملک میں جمہوری حکومت برسراقتدار آئی ہے۔

میکتیلا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو ان فسادیوں پر قابو پانے میں بہت مشکل کا سامنا ہے جو چھڑیوں اور چاقوؤں سے مسلح ہیں۔

ان بلوائیوں میں سے اکثر افراد بدھ ہیں جو ایک بدھ بھکشو کی ہلاکت پر برہم ہیں جو بدھ کے روز بری طرح جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔